مہاجر مزدوروں پر سپریم کورٹ کا اظہارتشویش : مدد کے لئے دیئے گئے احکامات پر کوئی کام نہیں ہوا
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کورونا وائرس کی دوسری لہر کے درمیان سپریم کورٹ نے ایک بار پھر مہاجرمزدوروں کی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ سال جولائی میں سپریم کورٹ نے مہاجروطن مزدوروں کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو متعدد ہدایات دئیے تھے۔ سپریم کورٹ نے آج کہا کہ ان احکامات پر کوئی عمل نہیں ہواکیونکہ کسی حکومت نے کوئی جواب داخل نہیں کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ مہاجر مزدوروں کے لئے جو گزشتہ سال اپنے گاؤں واپس گئے تھے اور جو شہر واپس آگئے ہیں ، ان کے لئے روزگار یا کھانے پینے کا ایک ذریعہ ہونا چاہئے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ دہلی-این سی آر میں اجتماعی کچن بنائے جائیں تاکہ کو بھوکا نہ رہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو مہاجر مزدوروں کی حالت اور ان کے فائدہ اٹھانے والی اسکیموں پر ایک ہفتے میں جواب دینا ہوگا۔ سپریم کورٹ مہاجر مزدوروں پر آج شام چار بجے تک احکامات منظورکرے گا۔
واضح رہے کہ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے ملک کی بہت سی ریاستیں لاک ڈاؤن کی زد میں ہیں ، جس کی وجہ سے گزشتہ سال ہجرت کے بعد شہروں میں واپس آنے والے مزدور ایک بار پھر بحران کا شکار ہیں۔ تاہم بیشتر ریاستوں نے مکمل لاک ڈاؤن کا اقدام نہیں کیا ہے ، لیکن پھر بھی بہت سے شعبوں میں کام تعطل کا شکار ہے ، جس کی وجہ سے مزدوروں کا ذریعہ معاش خطرے میں ہے۔



