قومی خبریں

بھو پال سیمی دہشت گردانہ معاملے کی سماعت آخری مرحلے میں

بھو پال سیمی دہشت گردانہ معاملے کی سماعت آخری مرحلے میں خصوصی گواہ سینئر سائنٹفک آفسیر کو عدالت میں پیش کیا جائے ،دفاع کا مطالبہ

ممبئی: 7/ جنوری(ای میل)۔ ممنوعہ تنظیم سیمی سے تعلق دہشت گردانہ کارروائی سمیت کئی سنگین الزامات میں برسوں سے قید و بند کی صعو بتیں جھیل رہے شولاپور،اجین،و کھنڈوہ کے نو جوانوں کا مقدمہ اسپیشل سیشن کیس نمبر 2014/541بھوپال کی خصوصی این آئی اے عدالت میں یکے بعد دیگرے گواہان کو پیش کیا جا رہا ہے،مقدمہ کی سماعت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ مدھیہ پردیش اے ٹی ایس کے خصوصی گواہ نریندر چودھری جنہیں دھماکہ خیزمادہ ایکسپرٹ کے طور پر جانا جاتا ہے اور جنہوں نے سینئر سائنٹفک کی حیثیت سے دھماکہ خیز مادہ کی جانچ کی تھی ،اے ٹی ایس ان کو عدالت میںپیش کرنے کے ٹال مٹول کر رہی ہے ،جب کہ دفاع نے عدالت میں عرضی لگائی ہے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے کیا تاکہ کیس کا خلاصہ ہو سکے،اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔

مزید تفصیلات دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پر دیش اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ ملز مین کے پاس سےدھماکہ خیز مادہ کی جو بر آمد گیاں دکھائیں تھیں سائنفٹک طریقے پر پر اس کی جانچ مذکورہ بالا آفیسر جناب نریندر چودھری نے کی تھی ۔اس کے باوجود استغاثہ اس اہم گواہ کو عدالت میں پیش کر نے سے مکرکر رہی ہے ،اسی لئے دفاع نے عدالت میں یہ عرضی لگائی ہے کہ اس خصوصی گواہ کو عدالت میں طلب کیا جائے کیا تاکہ اے ٹی ایس کی جا نب سے ملز مین پر دھماکہ خیز مادہ کے تعلق سے لگائے گئے الزامات کا خلاصہ ہوسکے اور اس کی گواہی سے سچ اور جھوٹ کا پردہ فاش ہو سکے ۔، آخر کیا وجہ ہے کہ اےٹی ایس اتنے ماہر سائنٹفک گواہ کو عدالت میں پیش کرنے سے کترا رہی ہے اور ٹال مٹول کا رویہ اختیار کر رہی ہے۔

جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جانب سےعدالت میں اس مقدمہ کی پیروی کرنے والے سینئر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے کہا کہ شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اے ٹی ایس دفاع کے جرح کی تاب نہ لاکر گواہ کو عدالت میں پیش کرنے کے لئے ٹال مٹول کر رہی ہے، دفاع کی جا نب سے بار بار گذارش کی گئی کہ اس اہم گواہ کو عدالت میں پیش کریں لیکن وہ اپنے گواہ کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اسی لئے ہمیں عدالت میں عرضی لگانی پڑی ہے۔

مولانا ندیم صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے یہ بھی کہا کہ یہ کافی نازک اور سنگین معاملہ ہے،مدھیہ پردیش اے ٹی ایس سبھی قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر جسے چاہے جھوٹے اور من گھڑت الزامات میں ملوث کر دیتی ہے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے جس کی وجہ انہیں برسوں تک اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ دیگر مقدمات کی طرح اس کیس میں بھی ملزمین پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں ،جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جانب سے سینئر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کر رہے ہیں ،بہرحال ہماری لیگل ٹیم اس مقدمہ کی عدالت میں مضبوط طریقے پر پیروی کر رہی ہے ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے تاخیر سہی لیکن ان ملز مین کو انصاف ضرور ملے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button