بین الاقوامی خبریں

جرمنی میں امیر شہری امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے ہوئے، نئی رپورٹ

برلن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی میں ایک نئی سرکاری رپورٹ سے واضح ہو گیا ہے کہ ملک میں سماجی عدم مساوات کے باعث پیدا شدہ خلیج کتنی بڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔جمیلہ کورودس ایک ایسی باہمت خاتون ہیں، جو ایک باقاعدہ تربیت یافتہ سیلز وومین ہیں۔

انہوں نے ابھی حال ہی میں جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے ایک پروگرام میں شرکت کی، جس کا موضوع تھا’محنت کے باوجود غریب، کیا سماجی ترقی ایک کھوکھلا وعدہ بنتی جا رہی ہے؟یہ تصویر جرمن وفاقی ریاست اور شہر بریمن کے غریب ترین سمجھے جانے والے علاقے کی ہے۔ بریمن میں ہر پانچویں شخص کو غربت کے خطرات لاحق ہیں۔ جرمنی میں غریب اسے تصور کیا جاتا ہے جس کی ماہانہ آمدنی درمیانے درجے کے جرمن شہریوں کی اوسط آمدنی سے ساٹھ فیصد سے کم ہو۔

جمیلہ کوردوس اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہیں اور انہیں تقریباً ہمیشہ ہی مالی وسائل کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔وہ ایک بڑے آن لائن شاپنگ سٹور کے ویئر ہاؤس میں کلرک کی کل وقتی ملازمت کرتی ہیں، مگر ان کے پاس ہر ماہ ادا کیے جانے والے لازمی اخراجات کے بعد گزر بسر کے لیے صرف تقریباً 500 یورو (610 ڈالر) ہی بچتے ہیں۔

اس جرمن خاتون کارکن کو شکایت یہ ہے کہ جرمنی میں کام کرنے کے باوجود غریب رہنا روزمرہ کی کڑوی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اسی بات کی ایک ایسی سرکاری رپورٹ بھی تصدیق کرتی ہے، جو ملک میں غربت سے متعلق جرمن وزارت محنت نے حال ہی میں جاری کی۔

اس رپورٹ کے اجراء سے پہلے اس کی چانسلر انگیلا میرکل کی سربراہی میں وفاقی جرمن کابینہ نے منظوری بھی دے دی۔ اس سرکاری رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق پر جرمن پارلیمان بنڈس ٹاگ میں بحث اگلے ماہ جون میں ہو گی۔امسالہ رپورٹ 500 صفحات پر مشتمل ہے اور ایسی ایک رپورٹ جرمن وزارت محنت کی طرف سے ہر چار سال بعد تیار کی جاتی ہے۔

تازہ ترین رپورٹ جن پریشان کن حقائق کی تصدیق کرتی ہے، ان میں یہ بات بھی شامل ہے,جرمنی میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج اتنی تیزی سے وسیع ہوتی جا رہی ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتے جا رہے ہیں اور اس تفریق میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے مزید شدت آ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button