
محمد مصطفی علی سروری
ونش سنگھ کی عمر 10 برس ہے ۔ اس کے والد کا نام پرمجیت سنگھ ہے جو سڑکوں پر گھوم کر ساکس فروخت کرتے ہیں۔ کرونا کی بیماری کے سبب پیدا شدہ حالات نے پرمجیت سنگھ کو مجبور کردیا ۔ وہ اپنے بچوں کی پڑھائی کو بند کرادیں اس لیے انہوں نے اپنے بڑے لڑکے کو جو کہ 9 ویں جماعت میں پڑھتا تھا اور ونش سنگھ کو جو کہ صرف سیکنڈ کلاس تک ہی پڑھ پایا تھا اپنے ساتھ کام پر لگادیا۔
پنجاب کے شہر لدھیانہ میں رہنے والے پرمجیت سنگھ کوئی بہت بڑے کاروباری تو تھے نہیں کہ اپنے بچوں کو بھی کاروبار میں ساتھ لیتے۔ چونکہ وہ سڑکوں پر گھوم پھر کر ساکس (Socks) فروخت کرتے تھے تو انہوں نے اپنے چھوٹے بچے کو بھی اسی کام پر لگادیا۔اب یہ دس سال کا چھوٹا سردار جس کا نام ونش سنگھ ہے لدھیانہ کی سڑکوں پر گھوم کر ساکس فروخت کرنے لگا تھا۔ ایک ٹریفک سگنل کے قریب ونش اپنے ساکس فروخت کر رہا تھا تو ایک کار وہاں آکر رکی۔
کار میں سوار لوگوں نے ونش سے ساکس خریدے اور اس سے پوچھا کہ وہ اتنی کم عمری میں کیوں یہ کام کر رہا تھا۔ معصوم سا ونش جواب دیتا ہے کہ گھر کے حالات کے سبب اس نے پڑھائی چھوڑ دی۔ ورنہ پڑھنے میں تو اس کو دلچسپی تھی۔ ونش کے اس جذبہ سے متاثر ہوکر کار میں سوار لوگوں نے ونش کی ایک ویڈیو بنا ڈالی اور ساتھ ہی ان لوگوں نے ونش کو ساکس کی قیمت سے زائد 50 روپئے دینے چاہے تو اس غیور بچے نے زائد رقم لینے سے منع کردیا اور کہا کہ وہ کاروبار کر کے کمانا چاہتا تھا اور اس کو کسی ہمدردی نہیں چاہیے۔
10 سالہ معصوم ونش کے اس جذبے سے متاثر ہوکر کار میں سوار ویڈیو بنانے والے حضرات نے اس کی یہ ویڈیو سوشیل میڈیا پر پوسٹ کردی۔ یوں جلد ہی ونش کا یہ جذبہ موضوع بحث بن گیا۔لدھیانہ کے اس 10 سالہ بچے کی ویڈیو کو دیکھ کر پنجاب کے چیف منسٹر کیپٹن امریندر سنگھ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ 8؍ مئی 2021ء کو اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر پنجاب کے چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ وہ ونش کی تعلیم کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کریں گے۔ اتنا ہی نہیں کیپٹن امریندر سنگھ نے ونش کے بڑے بھائی کی تعلیم کے لیے اور ونش کے والد کے لیے حکومت کی جانب سے امداد دینے کا اعلان کیا۔
(بحوالہ اخبار انڈین اکسپریس ۔ 8؍ مئی 2021ء کی رپورٹ)
قارئین کرونا کے قہر سے لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور زندگی کے ہر شعبۂ حیات پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ لیکن جنہوں نے آگے بڑھنے کا تہیہ کرلیا وہ مسائل کو جھیل گئے۔ خاص کر رمضان المبارک کے مہینے میں زکوٰۃ کی تقسیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جی ہاں اسلام کا ایک بنیادی رکن زکوٰۃ جو ہر صاحب نصاب پر فرض ہے۔
زکوٰۃ کو ایک اہم عبادت کا درجہ دیا گیا جس کا بنیادی مقصد علماء فرماتے ہیں کہ غرباء کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔لیکن زکوٰۃ کے حوالے سے خاص بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے جہاں صاحب نصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض کی تو صاحب نصاب کون ہے ان کی نشاندہی بھی کردی اور ساتھ ہی زکوٰۃ کس کو ادا کرنا ہے ان لوگوں کی باضابطہ وضاحت کردی گئی۔
لیکن قارئین ذرا غور کریں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ جن کے باپ دادا زکوٰۃ وصول کرتے تھے ان کے متعلقین آج بھی زکوٰۃ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جب دین اسلام کے اسکالرس نے واضح طور پر تشریح کردی کہ زکوٰۃ کا بنیادی مقصد غرباء کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے تو نسل در نسل زکوٰۃ لینے کے باوجود ان غریبوں کی ضروریات کیوں پوری نہیں ہو رہی ہیں۔
اس سے پہلے بھی ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے نکالی جانے والی زکوٰۃ کے متعلق مختلف تخمینے پیش کیے گئے تھے لیکن یہاں پر بھی ان کا دوبارہ ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد یعنی آبادی کی بات کی جائے تو پتہ چلے گا کہ سال 2019ء کے تخمینہ کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی تعدداد 17 کروڑ بتلائی گئی ہے۔ کرونا کے مشکل حالات کے سبب اگر صاحب استطاعت مسلم حضرات کی تعداد اگر کم بھی ہوئی ہے اور بالفرض ہم صرف 17 کر وڑ مسلمانوں میں سے صرف ایک فیصد مسلمانوں کو صاحب استطاعت مان لیتے ہیں اور ایک فیصد مسلمانوں کی تعداد 17 لاکھ ہوتی ہے۔
محتاط اندازوں کے مطابق اگر 17 لاکھ ہندوستانی صاحب استطاعت مسلمان کم سے کم ایک ہزار روپئے کی زکوٰۃ نکالتے ہیں تو قارئین یہ رقم 17,00,000 x 1000 یعنی ایک بلین اور سات سو ملین روپیوں کی ہوتی ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں کیا پورے ملک میں ایک فیصد مسلمان بھی اور وہ بھی ایک فیصد زکوٰۃ نہیں نکالتے ہوں۔ صرف ناگپور کے بزنس میان پیارے خان کے متعلق اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 26؍ اپریل 2021ء کو خبر دی کہ اس مسلمان تاجر نے 85 لاکھ کی رقم خرچ کر تے ہوئے ضرورت مند کرونا مریضوں کے لیے آکسیجن فراہم کی اور اپنے کار خیر کو آکسیجن زکوٰۃ کا نام دیا۔
کہنے کا مطلب کہ ایسے کئی مسلمان صاحب استطاعت ہیں جو صرف ایک ہزار زکوٰۃ نہیں دیتے بلکہ یہ رقم لاکھوں بلکہ اس سے بھی تجاوز کر جاتی ہے اور جو محتاط تخمینہ میں یہاں پیش کر رہا ہوں۔ تو اس کے متعلق اندازہ لگایئے کہ ہر سال اتنی بڑی رقم زکوٰۃ کے مد میں نکالنے کے باوجود ہمیں صورت حال میں بہتری کیوں نظر نہیں آتی۔
کیا ہماری زکوٰۃ ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ رہی ہے؟ آخر کو کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ کوتاہی ہو رہی ہے۔ ہماری مساجد کے باہر ہمارے فلاحی اداروں کے دفاتر میں سینکڑوں افراد اور درخواستیں امداد کے لیے بھری پڑی ہیں۔ اب تو سوشیل میڈیا پر بھی اپیلوں کی بھر مار ہے۔
اب ذرا اپنے اطراف و اکناف کے ماحول پر نظر دوڑائیں۔ خراب معاشی حالات اور کرونا کے سبب خراب صورت حال کا تو ہر ایک شکوہ کر رہا ہے مگر کوئی بھی فر د اپنے اخراجات کو کم کرنے تیار نہیں ہے۔ ہاں اخراجات جن کو ضروری مد میں شمار کرنا ہے ان پر بجٹ کم کیا جارہا ہے۔ جیسے بچوں کو ترک تعلیم کروائی جارہی ہے۔ بچت صفر ہو رہی ہے اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرضوں پر قرضے لیے جارہے ہیں۔ نوجوان جرائم کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
شکر کرنے کا جذبہ بڑی تیزی سے رخصت ہوتا جارہا ہے۔ ہر کوئی رو رہا ہے، شکایت کر رہا ہے، پورا جسم صحت مند ہے اس کا شکر نہیں، سر میں درد ہے بس اسی کا رونا رویا جارہا ہے۔شکر کرنے کے جذبے پر بانگلہ دیش کے مشہور فوٹو گرافر جی ایم بی آکاش کی 2؍ مئی 2021ء کی اسٹوری قابل ذکر ہے۔عبدالمطلب ایک ضعیف شخص ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں بہت زیادہ مذہبی ٹائپ کا شخص نہیں تھا لیکن خدا نے مجھے ایک اچھی بیوی دی۔
حالانکہ صورت کے اعتبار سے اس کی رنگت سانولی تھی لیکن میرے لیے وہ کسی فرشتہ سے کم نہیں تھی۔ میں نے اپنے زندگی میں اس سے زیادہ خوش کسی اور کو نہیں دیکھا۔ حالانکہ میرے ساتھ شادی کے بعد اس کو اولاد کی نعمت نہیں ملی اور نہ ہی خوش حال زندگی ۔ لیکن وہ کبھی بھی شکایت کا حرف اپنی زبان پر نہیں لاتی تھی۔ وہ کہتی تھی کہ خدا نے ہمیں اولاد اس لیے نہیں دی کہ ہم لوگ اپنے جیسے دوسرے ضرورت مندوں کی مدد کرسکیں۔
وہ ہر ایک کا خیال رکھتی تھی۔ ہمارے گائوں میں اگر کسی کی طبیعت خراب ہوجاتی تو وہ اس کے پاس پہنچ کر خدمت کرتی۔ وہ بھوکے لوگوں کو کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں کرتی تھی۔ حالانکہ خود ہمارے پاس کھانا محدود ہوتا تھا۔ رمضان المبارک کے دوران وہ خوب عبادت کرتی ، روزہ رکھتی اور غریبوں کو کھانا کھلاتی۔ ہر روز چار غریبوں کو کھانا فراہم کرنا اس کا معمول تھا اور وہ خود بھی افطار کے بعد ان غریبوں کے ساتھ کھانا کھاتی۔
حالانکہ وہ مجھے ہمیشہ ترغیب دلاتی کہ میں بھی عبادت کروں اور روزہ رکھوں۔ میں ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا تھا کہ میں بعد میں رکھوں گا۔ بارہ برس پہلے میری عزیز بیوی اسی رمضان کے دوران اللہ کو پیاری ہوگئی۔ وہ آخری رمضان میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے خود روزہ نہیں رکھ پائی تھی جس کا وہ ہمیشہ افسوس کرتی تھی کہ جب طبیعت ٹھیک ہوجائے گی تو وہ روزے قضاء کرے گی۔لیکن اللہ نے اس کو اپنے پاس بلا لیا۔
اب گذشتہ 12 برسوں سے میں پابندی کے ساتھ روزے رکھ رہا ہوں اور اپنا افطار چار غریبوں کے ساتھ کھانا کھاکر کر رہا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس حد تک صحیح ہے لیکن مجھے امید ہے کہ میرے اس عمل کو دیکھ کر میری بیوی جنت میں ضرور مسکرا رہی ہوگی۔قارئین عبدالمطلب ایک بانگلہ دیشی بزرگ مسلمان ہے لیکن اس کے جذبہ شکر کو دیکھیں، اس کی بیوی کے جذبہ خدمت خلق کو دیکھیں۔ بیوی کا رنگ سانولا تھا مگر وہ شکر ادا کر رہا ہے۔
اللہ نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا، دوسروں کی خدمت کر کے ان لوگوں نے اپنی زندگی میں سکون ڈھونڈ نکالا۔ خود محنت کر کے کھانا کھاتے لیکن غریبی کے باوجود دوسروں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرنا نہ بھولے اور ہر بیمار کی تیمار داری کو اپنا معمول بنالیا۔کیا یہ جذبہ شکر ہمیں نہیں سیکھنا چاہیے۔ قارئین حکمت اور دانائی کی باتیں مومن کی گمشدہ چیز ہے۔ جہاں کہیں وہ اسے پاتا ہے وہ اس کا حقدار ہوتا ہے۔ سنن ابن ماجہ میں حدیث نمبر (4169) میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث نقل کی گئی ہے۔
ناشکری اور شکوے شکایت کے ماحول میں اپنا جائزہ لیں۔ اپنی عبادات، اپنے معاملات، اپنی معاشرت اور اپنے اخلاقیات کے حال دیکھیں۔ شکر کرنا سیکھیں اور شکر کرنا سکھائیں۔ کرونا وباء کے باوجود بے شمار نعمتیں ہیں جن پر ہم نے غور ہی نہیں کیا۔ عبادات کو رسوم نہ بنائیں بلکہ جیسا اس کا حق ہے ویسے ادا کریں۔ ان شاء اللہ حالات بھی بدلیں گے اور آزمائش سے بھی باہر نکل سکیں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ہر طرح کی ناشکری سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین۔



