
وزیر اعظم مودی پوسٹر معاملہ گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر ، ایف آئی آر رد کرنے کی اپیل
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ سے وزیر اعظم کی ویکسی نیشن پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوسٹرلگانے والوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی تشویش کا اظہار بنیادی حق ہے۔ ایسے میں پوسٹر لگانے والے لوگوں کے خلاف درج مقدمہ غیر قانونی ہے، تمام ایف آئی آر منسوخ کی جائے۔
اس کے علاوہ ایسے معاملات میں مقدمہ درج نہ کرنے کی بھی ہدایت جاری کی جائے۔ دہلی کے وکیل پردیپ کمار یادو نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ دائر کی ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ اس کیس سے متعلق تمام مقدمات کو ختم کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں اس طرح کے دو درجن مقدمات درج کئے گئے ہیں اور 24 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس معاملے میں آزادی فکر و اظہار کاحوالہ دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ملک کے ہر شہری کو نظریات کے اظہار کی آزادی حاصل ہے،
جو شخص عوامی تشویش سے متعلق کسی معاملے میں خیال کا اظہار کرنااس کا بنیادی حق ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ عوامی تشویش کے معاملے میں اظہار رائے کی آزادی ہرانسان کا بنیادی حق ہے۔ شیریا سنگھل سے متعلق کیس کے ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ نے یہی کہا تھا کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی معلومات اور خبر شیئر کی جاتی ہیں تو پھر آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 66 اے کے تحت مقدمہ درج نہیں ہو گا۔
سپریم کورٹ نے حال ہی میں کورونا وبا سے متعلق ایک کیس میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ اگر کوئی بھی سوشل میڈیا پر مدد مانگ رہا ہے تو اس کے خلاف فوجداری مقدمہ نہیں درج کیا جائے گا۔درخواست گزار نے مرکزی حکومت ، دہلی پولیس کمشنر اور دہلی کے چیف سکریٹری کو مدعا علیہ بنا یا ہے۔



