
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک میں کورونا ویکسین کی قلت کے درمیان سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ایس آئی آئی) کے سی ای اوادار پونا والا نے کہاہے کہ ہم نے ’لوگوں کی قیمت‘ پر ہندوستان میں کبھی بھی ویکسین ایکسپورٹ نہیں کی ہے۔لیکن بنیادی سوال یہی ہے کہ جب ملک میں ویکسین کی ضرورت تھی توباہرکیوں بھیجی گئی ۔
جب کہ نوجوانوں کوویکسین دی جاسکتی تھی۔انھوں نے کہاہے کہ یہ کہا گیا ہے کہ ہم دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں سے ایک ہیں ، اتنی بڑی آبادی کے لیے 2-3 ، ویکسینیشن مہم کوچند ماہ میں مکمل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس میں بہت سے عوامل اورچیلنجزشامل ہیں۔پوری دنیا کی آبادی کو مکمل طور پرویکسین دینے میں 2-3 سال لگیں گے۔
انہوں نے کہاہے کہ ایس آئی آئی نے 200 ملین سے زائد خوراکیں فراہم کی ہیں ، حالانکہ ہمیں امریکی دوا ساز کمپنیوں کے دو ماہ بعد ہی EUA مل گیا ہے۔ اگر ہم پیدا شدہ اور تقسیم شدہ کل خوراکوں پر نظر ڈالیں توہم دنیا میں سرفہرست تین میں شامل ہیں۔ ہم اس بات کا اعادہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے ہندوستان میں لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کبھی بھی ویکسین ایکسپورٹ نہیں کی ہے اور ہم ملک میں ویکسینیشن مہم کی حمایت کرنے کے لیے جو بھی کر سکتے ہیں کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔



