سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

بچوں میں کورونا کی تیسری لہر – احتیاطی تدابیر ضروری!

نمونیا اور دست و قئے کی علامتیں ہوں گی، بچوں کو ہجوم، پارکس اور اسکولس سے دور رکھیں

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سائنسدانوں کا دعویٰ ہیکہ کورونا کی تیسری لہر 2 سال سے کم عمر والے بچوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا والدین کو چھوٹے بچوں کی صحت و نگہداشت پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کورونا کی دوسری لہر نے بڑی تباہی مچائی ہے۔ کورونا کی لہر میں اموات کی شرح کم تھی تاہم دوسری لہر میں کیس اور اموات میں زبردست اضافہ ہوگیا۔

بالخصوص 40 تا 60 سال درمیان عمر کے لوگ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اسی بھیانک صورتحال سے ابھی سنبھل نہیں پائے کہ کورونا کی تیسری لہر خطرہ بن کر سر پر منڈلا رہی ہے۔ اس سے بچے زیادہ متاثر ہونے کے اندیشے ہیں جس پر رینبو گروپ آف ہاسپٹلس کے صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر پیڈیا ٹرک ، گیاسٹرو انٹرالوجسٹ ڈاکٹر رمیش کنچرلہ نے کہا کہ تیسری لہر کی پیش قیاسی تو کی جارہی ہے مگر یہ وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کب آئے گی اور کتنے دن رہے گی اور اس کا اثر کتنا رہے گا۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ 2 سال سے کم عمر کے بچے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، ان میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے کورونا وائرس معصوم بچوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔ ان عمر کے بچوں میں اکثر بخار آتا ہے۔ اس لئے کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ 8 تا 16 سال عمر کے بچوں میں ملٹی سسٹم انلپیمٹری سنڈروم (میسی) کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

تاہم 18 سال سے کم عمر والے بچوں کی تعداد 30 فیصد ہے۔ لہٰذا ان کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ بچوں میں بلیک فنگس کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ کورونا سے متاثر ہونے پر بھی ڈاکٹر اسٹرائیڈس تجویز نہیں کرتے۔ ڈاکٹر کنچرلہ نے کہا کہ کورنا سے متاثر زیادہ تر بچوں میں بخار کی شدت، سردی، کھانسی، نمونیا، قئے و دست علامتوں کی نشاندہی ہوئی ۔

تیسری لہر میں بچوں میں ایسی علامتوں کے امکانات ہیں لیکن انفیکشن کی علامتوں کا ابھی سے اندازہ مشکل ہے۔ بچوں میں زیادہ شدید بخار ہوسکتا ہے۔ بچوں کے ویکسین پر تجربہ جاری ہے۔ جلد ویکسن کی دستیابی ضروری ہے۔ زیادہ بھیڑ والے علاقوں میں بچوں کو نہ لے جائیں۔ اسکولس و پارکس وغیرہ بچوں کیلئے خطرہ ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button