برکھادت
اترپردیش میں پنچایت انتخابات کے دوران ہزاروں سرکاری اساتذہ کی خدمات الیکشن ڈیوٹی کی انجام دہی کے لئے حاصل کی گئیں چونکہ کورونا وائرس سے دیگر ریاستوں کی بہ نسبت اترپردیش مہاراشٹرا، دہلی، تاملناڈو، پنجاب، کرناٹک کی طرح یوپی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ایسے میں پنچایت انتخابات میں خدمات انجام دینے والے کم از کم 707 اساتذہ اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے۔ ان میں 15 سالہ طالبہ واسوی شکلا کے والد بھی شامل ہیں۔
اترپردیش کی رہنے والی واسوی نے مجھ سے بات کرتے ہوئے بڑے ہی سنجیدہ اور رنجیدہ لہجہ میں کہا کہ آپ نے بھی اپنے والد کو کورونا کی اس وباء میں کھویا ہے اور آپ میرا احساس اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں۔ اپنے والد کے کورونا وائرس سے متاثر ہوکر انتقال کر جانے کے بعد میں ایسے محسوس کررہی ہوں جیسے مجھے کوئی تحفظ حاصل نہیں، کوئی سیکوریٹی نہیں، کوئی مجھ پر نظر رکھنے والا نہیں نگرانی کرنے والا نہیں، واسوی مجھ سے بات بھی کررہی تھی اور اپنی غمزدہ ماں سویتا کو بار بار دلاسہ بھی دیئے جارہی تھی۔
سویتا کے شوہر اور واسوی کے والد ابھیشیک ایک اسکول ٹیچر تھے اور 21 اپریل کو ان کی کووڈ ۔ 19 سے موت ہوگئی۔ اگرچہ سرکاری سطح پر کووڈ۔ 19 سے مرنے والے اساتذہ کی تعداد 707 بتائی جارہی ہے (لیکن ٹیچرس یونین کے مطابق ریاست میں تاحال 1000 اساتذہ فوت ہوئے ہیں) ۔ واسوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے قابل مذمت انتہائی برا اور مجرمانہ فیصلہ کرتے ہوئے اساتذہ کو الیکشن ڈیوٹی انجام دینے پر مجبور کیا اور یہ ایک ایسے وقت کیا گیا جبکہ کورونا وباء نقطہ عروج پر پہنچ چکی تھی۔
واسوی کا سوال تھا کہ آیا انتخابات آن لائن منقعد نہیں کئے جاسکتے تھے یا پھر منعقد ہی نہیں کئے جاتے؟ یا یہ ان کی گندی سیاست نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہیکہ ان کی نظروں میں انسانی اقدار کی کوئی قدر و منزلت نہیں؟ حقیقت یہ ہیکہ ان لوگوں (حکومت) میں کوئی انسانیت ہی نہیں ہے۔چاہے وہ مشرقی ریاست مغربی بنگال ہو یا اترپردیش کے پنچایت انتخابات ہمارے سیاستدانوں نے کووڈ۔ 19 اصولوں کی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔
مغربی بنگال میں تو وزیر اعظم نریدر مودی نے اپریل کے تیسرے ہفتہ میں اپنی انتخابی مہم کو معطل کیا اور وہ بھی انہیں بار بار اس بات کا احساس دلانے پر کہ کورونا کی وباء نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اترپردیش میں بھی کورونا کی شدت کو نظرانداز کرکے مقامی اداروں کے انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ ان حالات میں بھی ہم نے شہری ہونے کے ناطے حکومت ہند پر زور نہیں دیا کہ آپ لوگوں کی زندگیاں خطرہ اس طرح ان انتخابات کے ذریعہ بھی حکومت نے عوام کی زندگیاں خطرہ میں ڈالدیں اس کے باوجود عوام خاموشی رہی۔
یوپی کے قاتلانہ اسکینڈل پر بعض لوگ اور میڈیا نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں کی تعداد میں شہری موت کا شکار ہوئے ایک طرح سے مرکزی و ریاستی حکومتوں نے عوام کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ تاہم یوگی آدتیہناتھ حکومت نے یہ دلیل پیش کی کہ وہ ریاست میں پنچایت انتخابات منعقد کروانے کے حق میں نہیں تھی لیکن عدالتوں نے اسے (حکومت) کو مقامی اداروں کے انتخابات منعقد کرانے پر مجبور کیا۔
یوگی اور مودی کچھ بھی کہہ لیں اپنے عزیزوں کی اچانک اموات سے خاندان اجڑ گئے اور جتنے لوگ بھی فوت ہوئے اس کی وجہ اسپتالوں میں بیڈس، آکسیجن اور علاج (ادویات) کی عدم دستیابی تھی۔ لوگ اپنے پیاروں کو لئے دردر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے،
آکسیجن کے لئے تڑپ رہے تھے، ان بے بس مجبور و لاچار لوگوں کو ریاستی حکومت نے پولیس مقدمات درج کرانے کی دھمکیاں تک دیں۔ فوجداری کارروائی کرنے کا انتباہ دیا اور یہاں تک کہا گیا کہ اگر کوئی ٹیچر مقامی اداروں کے انتخابات میں ڈیوٹی انجام دینے سے گریز کرتا ہے تو ان کے خلاف نہ صرف پولیس میں مقدمات درج کروائے جائیں گے بلکہ فوجداری مقدمات کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑے گا۔
ملازمتوں سے بھی وہ محروم کردیئے جائیں گے۔جن ٹیچروں کی زندگیوں کے چراغ گل ہوئے ہیں میں کلیانی نامی ٹیچر بھی شامل جو 8 ماہ کی حاملہ تھیں۔ کلیانی کے شوہر دیپک نے مجھے بتایا کہ بحیثیت ٹیچر وہ اپنی خدمات بڑی تندہی سے انجام دیا کرتی تھیں اور ٹیچر ہونا ہی ان کے لئے سب کچھ تھا۔
دیپک کا کہنا تھا کہ ان کی بیوی کو اس بات کا خوف تھا کہ اگر وہ انتخابی ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کرتی ہیں تو وہ ملازمت سے محروم کردی جائیں گی اور ان حالات میں جبکہ خود دیپک بھی بیروزگار ہیں خاندان کو مالی طور پر مشکلات کا سامنا، کرنا پڑسکتا تھا جس کے وہ ہرگز متحمل نہیں ہوسکتے۔میں نے جن ٹیچرس کے ارکان خاندان سے بات کی ان تمام نے یہی بتایا کہ انہیں الیکشن ڈیوٹی انجام نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔
بعض اضلاع میں تو کئی خاندان ختم ہوگئے۔ انکیتا اور ان کی بہن پریتی دونوں اپنے والدین سے محروم ہوگئے دراصل ان کے والدین للن اور مینا جو بحیثیت سرکاری ٹیچر خدمات انجام دے رہے تھے الیکشن ڈیوٹی انجام دینے کے دوران کورونا کی زد میں آئے اور فوت ہوگئے۔انکیتا نے مجھے بتایا کہ ان کے والد آئی سی یو میں موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھے۔ اس وقت انہیں انتظامی عہدہ دار کی جانب سے ایک کال موصول ہوا جس میں امکانی فوجداری کارروائی کے انتباہ کے ساتھ تحریری وضاحت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
انکیتا کی بہن پریتی بھی اسکول ٹیچر ہے۔ اسے بھی الیکشن ڈیوٹی پر مجبور کیا گیا۔ پریتی کا کہنا ہیکہ ان کے والدین کا قتل کیا گیا اور یہ قتل ریاست نے کیا ہے۔ عبرت کا مقام یہ ہیکہ ان خاندانوں نے اپنے پیاروں کی زندگیاں بچانے کے لئے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کردی اور خانگی اسپتالوں کی بھاری فیس ادا کرنے کے باوجود ان کے عزیزوں کی زندگیاں نہیں بچ پائیں نہ صرف انہیں مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا بلکہ علاج کے بھاری مصارف ادا کرنے پر مجبور بھی کیا گیا۔



