نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ملک کی 2000 سے زائد خواتین وکلاء نے چیف جسٹس این وی رمن کو خط لکھ کراپیل کی ہے کہ انتخابات کے بعد مغربی بنگال میں ہونے والے تشدد کا جائزہ لینے کے لئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے اور معاملات کی تفتیش کی جائے۔اس خط پر 2093 خواتین وکلا نے دستخط کئے ہیں اور ان میں سے بیشتر کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔
خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ ریاست میں 2 مئی سے شروع ہونے والے تشدد میں خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔خواتین وکلا نے کہا ہے کہ ریاست 2 مئی سے ہونے والے تشدد کی وجہ سے ریاست ایک آئینی بحران کی زد میں ہے اور اس کی وجہ سے ریاست میں شہریوں کی حالت خراب ہوتی جارہی ہے۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے واقعات نے ہندوستان میں ہزاروں خواتین وکلا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ان کے ضمیر کو مجروح کیا ہے۔
یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ تشدد کے سازش کاروں نے خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پولیس غنڈوں کے ساتھ ملی بھگت میں مبتلا ہے اور متاثرہ افراد اپنی شکایات درج کرنے کی حالت میں نہیں تھے اور ریاست میں آئینی مشینری کو مکمل طور پر مسمار کردیا گیا۔خط میں اپیل کی گئی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر ایف آئی آر درج کرنے اور اموات اور حملوں کی تحقیقات کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔
متاثرین کی شکایات درج کرنے کے لئے مغربی بنگال پولیس کے باہر نوڈل افسر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔چیف جسٹس (سی جے آئی) کو لکھے گئے خط میں مغربی بنگال کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ہر سطح پر ایک موثر شکایت کا نظام قائم کرنے کی ہدایت دینے اور موصولہ شکایات کے سلسلے میں عدالت عظمیٰ کے سامنے یومیہ رپورٹ درج کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔



