
ملک میں بچوں پر کویکسین ٹرائل کا اگلے ماہ سے امکان اواخرسال میں ملے گاعالمی ادارہ صحت سے لائسنس
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ویکسین تیار کرنے والی کمپنی بھارت بایوٹیک جون میں بچوں پر اپنے کورونا کوویکسین کے ٹرائل کا آغاز کرسکتی ہے۔ کمپنی کو 2 سے 18 سال کی عمر کے بچوں پرویکسین ٹرائل کی اجازت حکومت سے مل چکی ہے۔ اس کی اطلاع کمپنی کے بزنس ڈویلپمنٹ اینڈ انٹرنیشنل ایڈوکیسی ہیڈ ڈاکٹر راچس ایلا نے دی ہیں۔
ایلا نے FICCI لیڈیز آرگنائزیشن (ایف ایل او) کے ممبروں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ کے دوران اعتماد کا اظہار کیا کہ کمپنی اس سال کے تیسرے اور چوتھے سہ ماہی میں ڈبلیو ایچ او سے لائسنس کی منظوری حاصل کرنے کی امید کرتی ہے ۔
اس دوران ایف ایل او کی چیئرپرسن اما چگورپتی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کورونا کو عالمی بحران قرار دیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر ہندوستان پر پڑا ہے،ہم متاثرہ کیسز کی صورت میں برازیل کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔ ہر کوئی پریشان ہے اور اس پریشانی کا واحد حل ’’ ویکسین‘‘ ہے۔ ڈاکٹر ایلا نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہماری محنت کاصلہ مل رہا ہے۔ ویکسین اچھی طرح سے کام کر رہی ہے اور لوگوں کی زندگیاں بچا رہی ہے۔
سال کے آخر تک ہم ویکسین کی پیداوار 70 ملین تک بڑھا دیں گے۔ڈاکٹر ایلا نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہمیں حکومت کی طرف سے مکمل حمایت مل رہی ہے۔ حکومت نے 1500 کروڑ کا ایڈوانس آرڈر دیا ہے،اس سے ہمیں بہت مدد ملے گی۔ہم گجرات اور بنگلورو میں کمپنی کی توسیع کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ہم نے مصنوعات پر توجہ دی تھی، اب ہم اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ پر توجہ دے رہے ہیں۔



