قومی خبریں

نارڈا اسٹنگ کیس میں مداخلت سے سپریم کورٹ کا انکار

کہا وزیر اعلی کے طرز عمل سمیت تمام پہلوؤں کو ہائی کورٹ میں رکھے سی بی آئی

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نارڈا اسٹنگ کیس میں سی بی آئی کو آج سپریم کورٹ سے اپنی درخواست واپس لینی پڑی۔ سی بی آئی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں فرہاد حکیم، مدن مترا، سبرت مکھرجی اور شوون چٹرجی کو نظربند کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ اب یہ سارا معاملہ ہائی کورٹ کے 5 ججوں کی بنچ دیکھ رہی ہے۔ تمام فریقوں کو وہیں اپنی بات رکھنی چاہئے۔

سی بی آئی کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے ریاست کے پرتشدد حالات پر دلیل دی۔ انہوں نے کہاکہ 17 مئی کو وزیراعلی خود سی بی آئی دفتر میں بیٹھ گئیں، ہزاروں افراد جمع ہوگئے اور سی بی آئی آفس پر پتھراؤ کیا۔ ریاستی وزیر قانون نچلی عدالت کے احاطے میں جاکر بیٹھے تھے۔ سرکاری وکیل کوضمانت کی مخالفت کرنے سے روکنے کی کوشش ہوئی۔ سی بی آئی افسران کے لئے عدالت میں جاکر حقائق کو برقرار رکھنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ ان حالات میں چاروں کو نچلی عدالت سے ضمانت مل گئی، ہم اس دن ہوئی عدالت کی پوری کاروائی کو منسوخ قراردینے کی مانگ کررہے ہیں۔

مہتا نے مزید کہا کہ ہم نے ہائی کورٹ میں 2 ججوں کی بنچ میں یہ معاملہ رکھا، جبکہ ایک جج ملزم کو ضمانت دینا چاہتے تھے، جبکہ دوسرے انھیں نظربند کرنے کے لئے بھیجنا چاہتے تھے۔فی الحال سبھی گھرمیں نظربند ہیں۔ سوال کچھ ملزمان کی ضمانت کاہے ہی نہیں ، معاملہ سنگین ہے، زیادہ بڑا ہے،اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اسے دیکھے۔ ہوسکتا ہے کہ آگے چل کر معاملے کو ریاست سے باہر منتقل کرنا پڑے۔

اسی لئے سپریم کورٹ میں سماعت ضروری ہے۔لیکن سپریم کورٹ کے جسٹس وینیت سرن اور بی آر گوئی کی بنچ ان دلائل سے قائل نہیں ہوئی۔ ججوں نے کہا کہ ہم نے پوری فائل کو پڑھ لیا ہے، ہم وزیر اعلی یا وزیر قانون کے طرز عمل کی حمایت نہیں کرتے ہیں لیکن کسی کیس میں گرفتار ملزم کی ضمانت کے حق کے ساتھ نہیں جوڑاجا سکتا، دونوں مختلف ہیں، ہمیں نہیں لگتاکہ بھیڑ جمع کرنے سے کسی عدالت کو متاثر کیاجاسکتاہے، اگر ہم ایسا مان کر یہاں سماعت شروع کردیں گے تو یہ نچلی عدالتوں اور ہائی کورٹ کے ججوں کی حوصلہ شکنی کی بات ہوگی۔

بنچ نے مزید کہا کہ سی بی آئی کی درخواست پر ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت شروع کردی۔ اب 5 ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دے کرمعاملہ دیکھاجارہاہے۔ ہائی کورٹ تمام پہلوؤں کو دیکھنے کے قابل ہے۔ بہتر یہی ہے کہ سی بی آئی یہاں سے کیس واپس لے لے۔ تمام فریقین خود کو ہائی کورٹ میں پیش کریں۔ سپریم کورٹ کے اس طرز عمل کو دیکھ کر بالآخر سالیسیٹر جنرل نے سی بی آئی کی درخواست واپس لینے کی بات کی۔ عدالت نے ان کی درخواست قبول کرلی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button