
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے کسانوں نے کل ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس سمیت حزب اختلاف کی 12 جماعتوں نے کسانوں کے اس مظاہرے کو تحریری طور پر اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ کرونا دور میں 26 مئی کو کسان تنظیمیں یوم سیاہ منانے جارہی ہیں۔ بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان اور لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ اس یوم سیاہ کے موقع پر زیادہ ہجوم نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ لوگ نہیں آئیں گے، بہت سے لوگوں کے پاس بارڈر کے قریب مکانات ہیں، وہ وہاں آئیں گے۔راکیش ٹکیت نے کہا کہ کل لوگ اپنے گاؤں میں اپنے ٹریکٹروں، اپنی گاڑیوں، موٹرسائیکلوں پر سیاہ پرچم لگائیں گے، لوگ ہاتھوں میں سیاہ پرچم لے کر احتجاج درج کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو سرحد پر ہوں گے وہ یہاں سیاہ پرچم لگائیں گے، یہ یوم سیاہ ہے اور ہم حکومت کی مخالفت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمیں 6 ماہ سے بیٹھا رکھا ہے، حکومت نے ہماری نہیں سنی، ہم حکومت ہند کے پتلے کو نذر آتش کریں گے، یہ پورے ملک میں کیا جائے گا۔حکومت کے مؤقف کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ اگر حکومت بے شرم ہوگی تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا، یہ ایک احتجاج ہے ہمارا، ہم اپنا احتجاج تو کریں گے،
اگر حکومت کو بیماری بڑی لگ رہی ہے،کورونا بڑا ہے یا قانون بڑا ہے۔حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ کون بڑا ہے، اگر بیماری بڑی ہے تو قانون کو ردکرنا چاہئے، کسان بھی اپنے گھرچلا جائے گا۔لاکھوں لوگوں کے جمع ہونے کے سوال پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ بہت سے لوگ سرحدوں پر رہتے ہیں، 7-8 مقامات پر سرحد ہے، یہ ایک کالونی ہے، ایک گاؤں میں بھی کئی ہزارلوگ رہ رہے ہیں،
یہ ہے یہ بھی مختلف قسم کے دیہات ہیں، لوگ فاصلے پر رہتے ہیں، سرحد لمبی ہے، سرحد تقریبا 22 کلو میٹر لمبی ہے لیکن اس کے دو سے تین اطراف ہیں، پارک میں لوگ رہتے ہیں،گلیوں میں لوگ ہیں، اگر آپ اسے ایک طرف سے دیکھیں تو پھر یہ 70 کلومیٹر لمبی سرحدہے، بہت سے لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ کیا کرنا ہے، یہ لوگ کہاں جائیں گے۔
خط کے معاملے پر کسانوں میں اختلاف کولے کرپوچھے گئے سوال پر راکیش ٹکیت نے کہا کہ وہاں اس کولے کرکسان مورچے میں بات ہوئی ہے۔ وہاں بہت سارے لوگوں نے سوال کیا کہ جب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ ایک کال کی دوری پر ہیں تو انہیں فون کرنا چاہئے، چنانچہ فیصلہ ہوا کہ فون نہیں تو انہیں خط لکھنے دیں،
لوگ ہم سے دوبارہ نہیں پوچھیں گے کہ آپ نے خط نہیں لکھا تھا اور یہ واضح کر دیا کہ اگر حکومت بات کرنا چاہتی ہے تو بات کرے۔ ٹکیت نے یہ بھی کہا کہ ہماری یہ شرط ہے کہ جہاں سے بات چیت ختم ہوئی تھی وہیں سے بات چیت شروع ہوگی۔



