بین ریاستی خبریںسرورق

محکمہ پولیس کی لاپرواہی: آخری رسومات کے۹ ؍دن کے بعد واپس آگیا فوت شدہ شخص

راجسمند :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان کے راجسمند میں پولیس محکمہ کی بہت بڑی غفلت اجاگر ہوئی ہے۔ جہاں ایک شخص اپنے آخری رسومات کے 9 دن بعد زندہ واپس آگیا ،ہر کوئی اسے زندہ دیکھ کرحیران تھے ، وہی اہل خانہ کا ماتم خوشی میں بدل گیا ۔تفصیلات کے مطابق پولیس نے او نکار لال نامی شخص کے کنبے کو او نکار لال کی لاش بتا کر کسی دوسرے شخص کی لاش سونپ دی ، جس کی فیملی نے آخری رسومات بھی کردی،

اسی دوران مذکورہ شخص او نکار لال کے بیٹوں نے مذہبی رسم کی وجہ سے سر منڈوایا اور پنڈ دان بھی کردیا تھا۔پولیس کو 11 مئی کو موہی روڈ پر نامعلوم شخص کی لاش ملی۔ انہیں 108 ایمبولینس کے ذریعہ آر کے ڈسٹرکٹ اسپتال پہنچایا گیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ اسپتال انتظامیہ نے کانکرو لی پولیس کو ایک خط بھیج کر لاش کی شناخت طلب کی گئی ہے۔

پولیس نے شناخت کی کوشش کی ، لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ اس کے بعد 15 مئی کو ہیڈ کانسٹیبل موہن لال اسپتال پہنچے ،سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کی بنیاد پر پولیس نے کنکرولی کے ویویکانند چوراہا کے رہائشی او نکار لال کے بھائی نانالال کو بلایا،نانا لال نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کے بھائی او نکار لال کے دائیں ہاتھ کی کلائی سے لے کر کہنی تک چوٹ کے نشانات ہیں ، جبکہ بائیں ہاتھ کی دو انگلیاں مڑی ہوئی ہیں۔

اسپتال انتظامیہ اور پولیس نے لاش کا پوسٹمارٹم کے بغیر لواحقین کے حوالے کردیا ، یہ کہتے ہوئے کہ لاش تین دن پرانی ہے اور سرد خانے میں ہونے کی وجہ سے ہاتھ میں چوٹ کے نشانات مٹ گئے تھے۔ او نکار لال کے لواحقین نے بتایا کہ او نکار لال کے بیٹوں نے 15 مئی کو سر منڈوکر کے لاش کا آخری رسوم کیا تھا۔ لواحقین نے بتایا کہ آخری رسومات کے بعد اہل خانہ میں سوگ کی فضا تھا۔ ادھر 23 مئی کو جب او نکار لا ل اپنے گھر پہنچا ،تو کنبہ حیرت زدہ تھا۔

گھر پہنچنے پر او نکار لال نے بتایا کہ وہ بتائے بغیر 11 مئی کو ادے پور گیا تھا، جہاں اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس کے بعد 4 دن ادئے پور اسپتال میں داخل ہو کر اپنا علاج کرایا۔10 دن کے بعدوہ اتوار کو دوبارہ راجسمند واپس آگیا۔انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے او نکار لال کے اہل خانہ 10 دن تک سوگ مناتے رہے۔ وہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ اہل خانہ نے کس فرد کی لاش کی آخری رسومات ادا کی ۔ کرونابحران میں انتظامیہ عام آدمی کے درد میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔تاہم پولیس نے اپنی غلطی کااعتراف کرتے ہوئے معذرت کرلی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button