
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) دہلی پولیس کی کرائم برانچ کی ٹیم چھترسال اسٹیڈیم میں پہلوان ساگر کے قتل کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔اس واقعہ نے اولمپک تمغہ جیت کر ملک و بیرون ملک عالمگیر شہرت حاصل کرنے والے پہلوان سشیل کمار کی عالمگیر شہرت عالمگیر ذلت میں بدل گئی ۔خیال رہے کہ اس تناظر میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سارا معاملہ فلیٹ نمبر- D 10/6 سے متعلق ہے۔
اسی فلیٹ کی وجہ سے سشیل اور اس کے ساتھیوں نے ساگر اور اس کے دوسرے ساتھیوں کا اغوا کرلیا۔ ساگر کے اغوا کے دوران سشیل کار میں بندوق لے کر بیٹھا تھا۔ اُس پر یہ الزام بھی عائد ہے کہ اس نے مارپیٹ کی اورساگرکو چھترسال اسٹیڈیم لے گیا۔اس تنازعہ کے پیچھے پیسے کا لین دین بھی بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی 10/6 فلیٹ جس میں پہلوان ساگر رہتا تھا ، وہ فلیٹ سوشیل کمار کی اہلیہ کے نام سے ہے۔
ساگر نے 2 ماہ سے اس کا کرایہ ادا نہیں کیا تھا۔ سشیل نے ساگر سے کرایہ مانگا تھا، لیکن ساگر کرایہ دینے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے بعد 4 مئی کے رات کچھ بدمعاش ماڈل ٹاؤن علاقہ پہنچے ، جہاں یہ فلیٹ واقع ہے۔ اس کے بعد ساگر اور اس کے دوسرے ساتھی کا اغوا کیا گیا، ذرائع کے مطابق اس دوران سشیل اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔اس کے بعد ساگر اور اس کے ساتھیوں کو ایک کار میں چھترسال اسٹیڈیم لے جایا گیا۔
اس اسٹیڈیم میں سشیل اور اس کے خسر اور سابق پہلوان ست پال کی طوطی بولتی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ سشیل اور اس کے ساتھیوں نے ساگر اور اس کے دوستوں کو اسٹیدیم لے جاکر ہاکی اسٹک سے پیٹا۔ اس وقت سشیل کے ساتھ ، لارنس بشنوئی اور نیرج بوانا گینگ کے ممبران بھی موجود تھے۔مارپیٹ سے ساگر شدید زخمی ہوگیا، اس کے بعد سشیل کے ساتھیوں نے ڈرانے کے لئے فائرنگ بھی کی اور واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔
اسی دوران ایک زخمی لڑکے کو موقع ملا، اس نے پولیس کو فون کیا۔ اسٹیڈیم کے سکیورٹی گارڈز نے پولیس کی آمد کے بارے میں پہلے ہی سشیل کو آگاہ کردیا تھا۔ اطلاع ملتے ہی سشیل اور اس کے ساتھی ساگر اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ کر فرار ہوگئے، پولیس کے مطابق اس واقعے میں 5 پہلوان زخمی ہوئے ہیں۔ ساگر کے علاوہ سونو (37) ، امت کمار (27) اور 2 دوسرے پہلوان بھی شامل تھے۔
خیال رہے کہ ساگر اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ گیا۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے 5 گاڑیوں کے علاوہ ایک بھری ہوئی ڈبل بوربندوق اور 3 زندہ کارتوس ملے ہیں۔ واقعے کے بعد سشیل 18 دن کے لئے فرار ہوگیا۔ 23 مئی کو پولیس نے دہلی کے منڈکا علاقے سے سشیل کو گرفتار کرلیا۔اس کے بعد سشیل کی عالمگیر شہرت عالمگیر ذلت میں بدل گئی ۔



