قومی خبریں

لداخ کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ، بچوں کی تعلیم ہورہی ہے متاثر

لیہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)7 جون تک لداخ میں کورونا لاک ڈاؤن میں توسیع کے حکم کے ساتھ ریاست میں اسکولوں اور کالجوں کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں بھی کم ہوگئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے دیگرعلاقوں کی طرح ریاست میں بھی آن لائن کلاسز کے ذریعہ تعلیم ہی واحد حل رہا ہے لیکن ریاست کا ناقابل رسائی جغرافیہ اس میں رکاوٹ بنتا جارہا ہے کیوں کہ اب بھی ریاست کا ایک بہت بڑا حصہ موبائل اور انٹرنیٹ خدمات سے محروم ہے۔

لداخ کے دارالحکومت لیہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ڈربوک کے علاقے مان مان گاؤں کی آبادی صرف ایک ہزار کے قریب ہے۔ ناقابل رسائی اور دور دراز ہونے کے باوجود علاقے کے لوگ تعلیم سے دلچسپی رکھتے ہیں اور تقریبا 70 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔ عام دنوں میں علاقے کے بچے اسکول جا رہے تھے اور تعلیم حاصل کر رہے تھے، لیکن لاک ڈاؤن نے ان کی تعلیم کو بری طرح متاثر کیاہے۔

مان اور قریبی 12 دیہات سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے ہائی سیکیورٹی زون میں آتے ہیں اور اسی وجہ سے یہاں ٹیلی مواصلات کی کوئی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ موبائل فون یہاں ہے لیکن انٹرنیٹ نہیں ہے، اس لئے گاؤں کے بچوں کو اب آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے لئے پنچایت گھر میں بنائے گئے کمیونٹی سنٹر میں جانا پڑتاہے۔اس علاقے کے کونسلر کیچک اسٹنزا کے مطابق اس علاقے میں انٹرنیٹ کا ایک ہی ذریعہ ہے اور یہ پنچایت گھر ہے۔ یہاں ایک V-SAT نصب کیا گیا ہے،

جس کی مدد سے انٹرنیٹ یہاں چلتا ہے لیکن ایک توپورے علاقے میں تعینات فوج اور بیکن کے لوگوں اسی پرمنحصر پر ہیں، دوسری طرف سرکاری کاموں کے لئے بھی اسی کا استعمال ہوتا ہے۔ ہر ایک اس انٹرنیٹ پر منحصر ہے،اس لئے بچوں کے لئے WIFI بھی کبھی کبھی کام نہیں کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں علاقے کے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button