کانپور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بلیک فنگس کے علاج میں استعمال ہونے والے انجکشن کی بلیک مارکیٹنگ کے الزام میں گرفتارنوجوان بھاجپایووا مورچہ کا لیڈر نکلا۔ یشودا نگر کے رہائشی پرکاش مشرا کوجیسے گرفتار کیا گیا ، وہ پولیس اہلکاروں پر اپنارعب جھاڑنے لگا ، لیکن رنگے ہاتھ پکڑے جانے پراس کی ایک بھی نہیں چلی ۔ جمعہ کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد پولیس نے پرکاش اور اس کے ساتھی گیانیش کو جیل بھیج دیا ہے۔
پرکاش کے پاس سے جو کار ملی ہے اس میں ’ہائی کورٹ‘ لکھا ہوا ہے۔ پولیس نے کار کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ گرفتاری کے بعد بی جے پی لیڈران کے فون کالز آنا شروع ہوگئے ، لیکن حقیقت معلوم ہونے پر سب نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لئے۔گوال ٹولہ پولیس تھانہ انچارج کوشل کشور دکشت نے بتایا کہ جب ملزم سے تفتیش کی گئی تو پتہ چلا کہ پرکاش مشرا بی جے پی یووا مورچہ میں ورکنگ کمیٹی کا رکن رہ چکا ہے۔
اس کے ساتھ ہی اس کا شہر کے وزیر کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے۔ وزیر کی مدد سے کانپور سے لے کر لکھنؤ تک کے لیڈران میں اچھی گرفت ہے ۔ اس کے فیس بک پروفائل کی تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔پولیس نے بتایا کہ تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وارانسی میں اس کا نقلی انجکشن لگنے کی وجہ سے ایک مریض کی موت ہوگئی ہے، شکایت کنندہ نے بی جے پی لیڈر سے بلیک فنگس کا انجکشن خریداتھا۔
جب ڈاکٹر نے تفتیش کے دوران بتایا کہ یہ انجکشن نقلی ہے ، تو اس نے اس کی شکایت گوال ٹولی پولیس اسٹیشن میں کی۔ پولیس نے بی جے پی لیڈر پرکاش مشرا اور اس کے ایک ساتھی گیانیش کو گرفتار کرلیا ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ جعلی انجکشن کا ریکیٹ نہ صرف کانپور تک بلکہ الٰہ آباد ، وارانسی سے یوپی کے کئی اضلاع تک پھیلا تھا۔
بی جے پی رہنماکو پریاگراج کے ایک میڈیکل اسٹور سے انجکشن مل رہا تھا ۔فرانز ک لیبارٹری میں تعینات ڈرگ انسپکٹر ڈاکٹر سیما سنگھ کو تفتیش کے لئے موقع پر بلایا گیا ، انہوں نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ ضبط شدہ تمام انجکشن جعلی ہیں۔ بہر حال اس کا نمونہ فرانزک سائنس لیبارٹری کو جانچ کے لئے بھیجا گیا ہے۔



