قومی خبریں

عدالت کا سشیل کمار کے ’میڈیا ٹرائل‘کو روکنے کی مانگ والی درخواست پر سماعت سے انکار

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے 23 سالہ شخص کے قتل کے سلسلے میں پہلوان اور اولمپک تمغہ فاتح سشیل کمار کے مقدمے کو سنسنی خیز بنانے سے میڈیا کوروکنے اور فوجداری مقدمات کی رپورٹنگ کیلئے مناسب اصول بنانے والی درخواست پرسماعت سے جمعہ کے روز انکار کردیااورر کہا ہے کہ ایسے شخص کے لئے پی آئی ایل نہیں دائر کی جاسکتی ہے جسے سب جانتے ہیں۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ کی بنچ نے کہا کہ کمار کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ میڈیا نے ان کے شبیہ کو قتل کے ایک کیس میں اپنی رپورٹنگ سے مسخ کردیا ہے جس میں وہ ملزم ہیں۔عدالت نے کہاکہ آپ کسی ایسے شخص کے لئے پی آئی ایل داخل نہیں کرسکتے ہیں،

ہمیں ایک باشعور فرد کی طرح کیس پر سماعت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ساتھ ہی عدالت نے قانون کے ایک طالب علم کی طرف سے دائر درخواست کانمٹاراکردیا۔قانون کے طالب علم نے الزام لگایا تھا کہ چھترسال اسٹیڈیم میں جھگڑا کے سلسلے میں کمار کے خلاف معاملے کی میڈیا رپورٹنگ کی وجہ سے ان کے کیریئر اور ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

چھترسال اسٹیڈیم میں جھگڑے میں ایک 23 سالہ پہلوان ہلاک ہوگیاتھا۔23 مئی کو دہلی کی ایک عدالت نے کمار کو قتل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لئے 6 دن کی پولیس تحویل میں بھیجتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف الزام سنگین ہے اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

کمار اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر پہلوان ساگر ڈھنکھر اور اس کے دو دوستوں سونو اور امیت کمار پر چار اور پانچ مئی کی درمیانی رات یہاں چھترسال اسٹیڈیم میں حملہ کیا،ساگر بعد میں چوٹ کی وجہ سے مرگیاتھا۔کمار کو 23 مئی کو بیرونی دہلی کے منڈکا سے شریک ملزم اجے کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل دو بار اولمپک تمغہ فاتح کمار تقریباتین ہفتوں سے فرار تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button