سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

خوبصورت دلکش آواز کی ملکہ،بہترین گلوکارہ بالی کی مشہور اداکارہ سلکھشنا پنڈت

سلام بن عثمان

سلکھشنا پنڈت: بالی ووڈ کی گلوکارہ اور اداکارہ

بالی ووڈ کی چمکتی دنیا میں اداکار اور اداکارائیں کے علاؤہ بالی ووڈ کے اور بھی دیگر شعبوں کے لوگ کب چھا جاتے ہیں کب گمنامی کی زندگی میں چلے جاتے ہیں معلوم ہی نہیں ہوتا ہے یہاں تک کی بالی ووڈ نے شاید کبھی ان کی طرف توجہ دی ہو۔

سلکھشنا پنڈت کی زندگی کا آغاز

آج ہم ان ہی میں سے 70 اور 80 کی دہائی کی خوبصورت اور دلکش آوز والی گلوکارہ سلکھشنا پنڈت کے متعلق بتانے جا رہے ہیں۔ سلکھشنا پنڈت کا نام سلکھشنا نارائن پنڈت اور فلمی نام سلکھشنا پنڈت ہے۔

12 جولائی 1954 کو چھتیس گڈھ کے رائے گڈھ شہر میں پیدا ہوئی۔ سلکھشنا پنڈت کے چچا مشہور کلاسیکی موسیقی کے استاد پنڈت جسراج تھے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سلکھشنا کو گائیکی وراثت میں ملی۔

فلمی کیریئر کی شروعات

سلکھشنا پنڈت نے اپنا فلمی سفر 9 برس کی عمر سے گائیکی سے شروع کیا۔ 1975 میں بطور ہیروئن سلکھشنا پنڈت نے اپنی پہلی فلم "الجھن” سے شروعات کی۔ ان کے سامنے اس وقت کے مشہور اداکار سنجیو کمار تھے۔ فلم "الجھن” میں لتا منگیشکر کے علاوہ سلکھشنا پنڈت نے بھی دو نغمے گائے تھے۔

اس فلم میں سلکھشنا پنڈت کی اداکاری کو خوب سراہا گیا ساتھ ہی ان کی بہترین آوز کو بھی، اس کے بعد فلم "سنکلپ” اور "سنکوچ” میں موقع ملا یہاں بھی انھوں نے اپنی بہترین اداکاری دکھائی اور بالی ووڈ میں بطور ہیروئن اپنی شناخت بھی بنائی لی۔

سلکھشنا پنڈت کی گلوکاری کا سفر

اس کے بعد سلکھشنا پنڈت نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، ساتھ ہی کئی فلموں میں اپنی گلوکاری کا جلوہ بھی دکھاتی رہیں۔ سلکھشنا پنڈت اپنی بہترین آوز کی وجہ سے اسٹیج شوز کے لیے بہت مقبول اور مشہور تھیں۔

کشور کمار کے ساتھ شراکت داری

کشور کمار کے شوز میں سلکھشنا پنڈت ایک اہم حصہ ہوا کرتی تھیں۔ کشور کمار کے ساتھ اسٹیج شوز کرتے ہوئے سلکھشنا پنڈت کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ میرا ٹیلنٹ کچھ حد تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹیج شوز سے وہ مطمئن نہیں تھیں، وہ بالی ووڈ میں کام کرنا چاہتی تھیں۔

فلم "الجھن” کا آغاز

اچانک ہی انھیں فلم "الجھن” کے لیے ہیروئن کا آفر ملا، سلکھشنا پنڈت نے فوراً ہاں کر دی۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی اور پھر سلکھشنا پنڈت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور کئی فلموں میں ہیروئن نظر آئیں۔ سلکھشنا پنڈت نے ہندی فلموں کے علاوہ بنگالی فلموں میں بھی کام کیا۔

سلکھشنا پنڈت کی موسیقی کے شوق کا آغاز

سلکھشنا پنڈت کو کیفی اعظمی کے گیت اور خیام کی موسیقی بہت پسند تھی جس کی وجہ سے فلم فئیر نے سلکھشنا پنڈت کو بہترین گلوکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ریکھا، پدمنی کولہاپوری، شبانہ اعظمی، ویجیتا پنڈت کے علاوہ اور بھی کئی اداکاراؤں پر ان کی آواز بہت جچتی تھیں۔

سنجیو کمار کے ساتھ تعلقات

سلکھشنا پنڈت اور سنجیو کمار نے تقریباً آٹھ فلموں میں ساتھ کام کیا اور ان فلموں کی شوٹنگ کے دوران سلکھشنا پنڈت کو سنجیو کمار سے عشق ہو گیا تھا۔ انھوں نے اپنی محبت کا اظہار سنجیو کمار سے کیا مگر سنجیو کمار نے انکار کر دیا۔ کیونکہ سنجیو کمار ہیما مالنی کے عشق میں گرفتار ہو چکے تھے۔ یہ عشق یک طرفہ تھا۔

سنجیو کمار کی موت کا اثر

سنجیو کمار کی اچانک موت سے سلکھشنا پنڈت پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔ سنجیو کمار کی موت کے بعد سلکھشنا پنڈت ڈپریشن کا شکار رہی اور اس ڈپریشن کی وجہ سے ایک روز گھر میں گرنے کی وجہ سے ان کی کولے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

سلکھشنا پنڈت کا کنٹریبیوشن اور ایوارڈز

سلکھشنا پنڈت نے اپنے وقت کے کئی مشہور اسٹار اور سپر اسٹار کے ساتھ کام کیا جن میں جتیندر، سنجیو کمار، راجیش کھنہ، ونود کھنہ، ششی کپور، شتروگن سنہا کے علاوہ اور بھی کئی دیگر کے ساتھ کام کیا۔

بنگالی فلم "بندی” اور دیگر زبانوں میں گلوکاری

1978 میں بنگالی فلم "بندی” میں کام کیا۔ سلکھشنا پنڈت نے کئی زبانوں میں نغمہ بھی گایا جن میں مراٹھی، ہندی، بنگالی، اریہ کے علاوہ گجراتی فلموں میں بھی گایا۔

مشہور موسیقاروں کے ساتھ گانے

سلکھشنا نے کئی مشہور موسیقاروں کے ساتھ گانے گائے جن میں شنکر جئے کشن، لکشمی کانت پیارے لال، کلیان جی آنند جی، بپپی لہری، اوشا کھنہ، راجیش روشن، خیام کے علاوہ اور دیگر بطور گلوکارہ ان کی آخری فلم "خاموشی” تھی۔

سلکھشنا پنڈت کی ذاتی زندگی اور خاندان

سلکھشنا پنڈت کے چچا پنڈت جسراج ہندوستان کے مشہور کلاسیکی موسیقی کے استادوں میں شمار تھا۔ 75 سال تک اپنی کلاسیکی موسیقی سے ہندوستان کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی مشہور تھے۔ سلکھشنا پنڈت کے دو بھائی جتن للت بالی ووڈ کے مشہور موسیقار ہیں دونوں بھائیوں نے بالی ووڈ کی کئی فلموں میں اپنی موسیقی کا جادو جگایا ہے۔

سلکھشنا پنڈت کا فلمی سفر اور ایوارڈز

سلکھشنا پنڈت نے اپنے فلمی سفر میں کئی ایوارڈ حاصل کیے ہیں۔ 1975 میں فلم فئیر ایوارڈ فلم "سنکلپ” کے لیے بہترین گلوکارہ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بنگالی فلم "بندی” کے لیے بھی بہترین گلوکارہ کا ایوارڈ ملا۔

زندگی کے آخری ایام میں سلکھشنا پنڈت نے بالی ووڈ اور گائیکی دونوں ہی دنیا سے خود کو تقریباً الگ کر لیا تھا۔ وہ ایک لمبے عرصے تک ممبئی میں اپنے گھر میں خاموش زندگی گزارتی رہیں۔ بیماریوں اور بڑھاپے نے ان کی صحت کو خاصا متاثر کر دیا تھا۔ آخرکار 6 نومبر 2025 کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ بالی ووڈ اور موسیقی کی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

فن، محبت، اور درد سے بھری ان کی زندگی ایک عہد کا حصہ تھی جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ سلکھشنا پنڈت آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی مدھر آواز اور یادگار نغمے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سنجیو کمار، جن سے وہ بے پناہ محبت کرتی تھیں، اسی تاریخ 6 نومبر کو سال 1985 میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے — گویا قسمت نے ان دونوں کے درمیان آخری رشتہ بھی اسی دن کے ذریعے جوڑ دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button