
پٹنہ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صوبہ بہار میں گردابی طوفان یاس کے اثرات کی وجہ سے موسلا دھار بارش نے معموالات زندگی کو متاثر کیا۔ ریکارڈ توڑ بارش کے نتیجے میں پٹنہ ، گیا ، پورنیہ سمیت دیگر اضلاع میں کئی مقامات پر پانی بھر گیا ہے۔ 37 اور 44 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا کی وجہ سے کئی درخت بھی جڑ سے اکھڑ گئے۔ دیہی علاقوں میں کئی کچے مکانات گرنے کی بھی اطلاع ہے۔
ریاست کے مشرقی حصے میں ایک یا دو مقام پر تیز بارش ہوئی ہے۔ ریاست میں سب سے زیادہ بارش کٹیہار کے مانیہری میں ریکارڈ کی گئی۔ یہاں 251.6 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔صوبہ کے دیگر مقامات پربھی موسلا دھار بارش ہوئی۔ویشالی میں جمعہ کی صبح 8.30 بجے سے شام 5.30 بجے کے درمیان 136 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ، جبکہ پورنیہ میں 83.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کھگڑیا ، پٹنہ ، مشرقی چمپارن ، ا رریہ ، بیگوسرائے ، سمستی پور ، جموئی ، مدھوبنی میں بھی زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق طوفانِ یاس سے ریاست میں داخلے کے بعد گہرے دباؤ کے باعث اتنی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ریاست کے دیگر حصوں میں ہوا کی رفتار اور بارش کی شدت میں کمی آچکی ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں اس میں مزید کمی واقع ہوگی۔
وہیں ریاست میں ’یاس‘ طوفان کے باعث دو دن میں سات افراد کی موت ہوگئی ہے، اس کے علاوہ چھ افراد زخمی ہوئے ہیں ، حکومت نے ان اموات کی تصدیق کی ہے۔ ان سب کو سرکاری دفعات کے مطابق مراعات دی گئی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دربھنگہ اور بانکا ضلع میں درخت کے گرنے سے ایک شخص کی موت ہوگئی ہے۔ جب کہ بانکا میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ مونگیر، بیگوسرائے ، گیا ، بھوج پور اور پٹنہ میں دیوار گرنے سے ایک ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔
دیوار گرنے سے بیگوسرائے میں چار اور گیا میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔ ان تمام واقعات کی تصدیق متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ نے کی ہے۔ طوفان کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو چار لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔ زخمیوں کو سرکاری اخراجات پر اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور اگر زخمی شخص کو سات دن سے زیادہ اسپتال میں رہنا پڑا تو اسے 50 ہزار روپے حکومت کو الگ سے دیئے جائیں گے۔



