انائو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کورونا وبا ایک طرف تو لوگوں کی جان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے دوسری جانب کورونا مریضوں کو اسپتالوں کے بل کی ادائیگی نے جیب پر زبردست اثر ڈالا ہوا ہے۔ لوگ پہلے اسپتال میں داخلہ کے لئے پریشان، پھر دواوں کے لئے پریشان اور بعد میں اسپتال کے بل کو لے کر پریشان ہیں۔
زیادتی تو اس وقت ہو جاتی ہے جب ان سب پریشانیوں کو جھیلنے کے بعد بھی مریض زندگی کی جنگ ہار جاتا ہے اور اسپتال لاش دینے کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہوتا جب تک اس کا عزیز علاج کے پورے بل کی ادائیگی نہ کر دے۔ خبر کے مطابق انائو کے انل کمار کی اہلیہ کی کورونا وائرس سے موت ہو گئی، لیکن بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسپتال نے لاش دینے سے انکار کر دیا۔
واضح رہے اناو کے رہنے والے انل کمار کی اہلیہ کا کورونا کا علاج لکھنو کے نجی اسپتال میں چل رہا تھا اور علاج کے دوران انہوں نے 8 لاکھ سے زیادہ روپے جمع بھی کر دیئے تھے اور ابھی 10لاکھ 75 ہزار باقی ہیں۔
اس باقی رقم کی وجہ سے انل کمار کو ان کی اہلیہ کی لاش دینے سے اسپتال والے ٹال مٹول کر رہے تھے۔ خبر کے مطابق لکھنو کے گومتی نگر ایکسٹینشن تھانہ علاقہ کے ایک نجی اسپتال میں انل کمار نے کورونا کے علاج کے لئے اپنی اہلیہ کو داخل کرایا تھا۔
رشتہ داروں کا الزام ہے کہ اسپتال نے زبر دستی انہیں 19 لاکھ 20 ہزار روپے کا بل دیا جس میں انہوں نے 8لاکھ 85 ہزار روپے جمع بھی کرا دیئے تھے۔انل کمار کا کہنا تھا کہ اتوار کو اس کی اہلیہ کی موت ہو گئی جس کے بعد اس نے اپنی اہلیہ کی لاش مانگی تو اسپتال والے باقی رقم مانگنے لگے، میرے پاس رقم نہیں ہے، پھر بھی اسپتال کے لوگ 10 لاکھ 75 ہزار روپے مانگ رہے ہیں۔ انل کمار نے لکھنو کے ڈی ایم سے شکایت کی ہے۔ شائع خبر کے مطابق اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔



