
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) معاشرے میں بگاڑ عام ہوتا جارہا ہے اور ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جس سے ملت کی بدنامی ہورہی ہے ۔ ایک تازہ واقعہ مغل پورہ پولیس حدود میں کل رات پیش آیا جس میں برقعہ پوش لڑکی کو غیرمسلم لڑکے کے ساتھ دیکھ کر اعتراض پر نوجوانوں کے خلاف پولیس نے سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے جیل بھیج دیا ۔
بتایا جاتا ہے کہ بہار کا پپو کمار 2014 ء میں روزگار کی تلاش میں شہر منتقل ہوا تھا اور وہ تالاب کٹہ میں فاسٹ فوڈ سنٹر قائم کیا جہاں اس کی دوستی مقامی لڑکی سے ہوئی ۔ بعد ازاں اس نے چارمینار کے پاس ایک موبائیل سامان کی دوکان کھولی اور تالاب کٹہ کی ایک لڑکی سے وہ مسلسل ربط میں تھا ۔ پیر کی شب وہ مغل پورہ سے میرچوک لڑکی کے ہمراہ پیدل جارہا تھا کہ بعض راہ گیر نوجوانوں نے برقعہ پوش لڑکی کو غیرمسلم کے ساتھ دیکھ کر اعتراض کیا ۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ پون کمار کی کلائی میں مندر کا دھاگا تھا اور اس کے ساتھ ہمراہ جانے والی مسلم برقعہ پوش لڑکی کو دیکھ کر محمد غوث نے اعتراض کیا ۔ مقامی عوام نے بتایا کہ نوجوانوں نے لڑکی کی جانب سے برقعہ پہن کر غیرمسلم کے ساتھ گھومنے پر اسے مشورہ دیا کہ اپنی من مانی کرنے برقعہ کا سہارا نہ لے چونکہ معاشرے میں اس سے بگاڑ ہوسکتا ہے ۔
اس پر برہم پپو کمار نے ان سے بحث و تکرار کی اور بعض نوجوانوں نے اسے زدوکوب کیا ۔ پپو کمار نے مغل پورہ پولیس سے نوجوانوں کے خلاف ایک شکایت درج کروائی جس پر پولیس نے فی الفور کارروائی کرتے ہوئے تعزیرات ہند کے سخت دفعہ 153A، 341 ، 323 ، 504 اور 506 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور نوجوانوں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ۔



