قومی خبریں

پچھلے سال تقریبا 8700 افرادکی ریل پٹریوں پرگئی جان ، زیادہ تر تارکین وطن مزدور

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گذشتہ سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے مسافر ٹرین خدمات میں بڑے پیمانے پر کمی کے باوجود ریلوے پٹریوں پر تقریبا 8700 افراد کچل کر ہلاک ہوئے ۔ حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تارکین وطن مزدور تھے۔ پچھلے سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرینوں کی معمول کی خدمات بند کردی گئیں۔ریلوے بورڈ نے جنوری اور دسمبر 2020 کے درمیانی عرصہ میں اس طرح کی اموات کا ڈیٹا شیئر کیا ہے جس میں مدھیہ پردیش میں مقیم کارکن چندرشیکھر گور نے حق اطلاعات ایکٹ کے تحت پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ بتایاگیا ہے۔

ریاستی پولیس کی جانب سے موصولہ معلومات کی بنیاد پر 805 افراد زخمی اور 8733 لوگوں کی جنوری 2020 سے دسمبر 2020 کے درمیان تھے ریلوے پٹریوں پر جان گئی۔عہدیداروں نے الگ سے بتایا کہ ان میں سے بیشتر مہاجر مزدور تھے جنہوں نے گھر پہنچنے کے لئے پٹریوں پر چلنے کا انتخاب کیا کیونکہ ریلوے کے راستوں کو سڑکوں یا شاہراہوں سے چھوٹا سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کارکنان نے بھی پٹریوں سے گزرنے کا انتخاب کیا کیونکہ اس سے وہ لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس سے بچ جاتے اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ وہ اپنا راستہ نہیں بھولیں گے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ تارکین وطن مزدوروں کو بھی لگا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی ٹرین نہیں چل پائے گی۔

پچھلے سال ٹرین سے کچل کر کوہونے والی اس سے پہلے کے4سالوں سے کم ہیں لیکن یہ تعداد ابھی بہت زیادہ ہے کیونکہ 25 مارچ کو کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے ہی مسافر ٹرین خدمات پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button