نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دہلی ہائی کورٹ نے 5Gٹیکنالوجی کیخلاف درج کی گئی اداکارہ جوہی چاؤلہ کی درخواست مسترد کردی ہے۔عدالت نے جوہی چاؤلہ پر 20لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا ۔ عدلیہ کے مطابق یہ درخواست ذاتی تشہیر کی غرض سے ہے ۔ نیز یہ درخواست قانونی رعایت کا غلط استعمال بھی ہے ۔ عدلیہ نے فیصلے کے وقت آخری سماعت کے دوران پیش آمدہ مداخلت کا بھی ذکر کیا۔
عدالت نے کہا کہ جوہی چاولہ نے سماعت کا لنک سوشل میڈیا پر سرکولیٹ کیا تھا، جس کی وجہ سے سماعت میں تین بار خلل واقع ہوا ،دہلی پولیس ان لوگوں کی شناخت کرے اوران کے خلاف کارروائی کر ے۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی 2 جون کو اس درخواست کی آن لائن سماعت کی تھی، جوہی کی جانب سے ایڈووکیٹ دیپک کھوسلہ پیش ہوئے تھے۔
جسٹس جے آر میڈھا کے بنچ نے کہا تھا کہ ہم حیران ہیں، میں نے ایسی عرضی کبھی نہیں دیکھی ، جس میں کوئی شخص بغیر کسی جانکاری کے عدالت آتا اور اور تحقیقات کیلئے عرضی پیش کرتا ہے ۔ اگر درخواست گزار کو اس موضوع کا کوئی علم نہیں ہے تو کیا اس معاملے کی سماعت کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ ہم کس چیز کی اجازت دیں؟
خامیوں سے بھری عرضی کومنظور کرلیں۔خیال رہے کہ جوہی نے 5 جی ٹکنالوجی کے نفاذ سے پہلے دہلی ہائی کورٹ سے انسانوں اور جانوروں پر اس کے اثرات کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی تھی۔ جوہی نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ 5 جی ٹکنالوجی کے نفاذ سے پہلے اس سے متعلق تمام نکات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے ۔خاص طور پر تابکاری ریڈیشین کے ا ثرات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔
ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہونی چاہئے کہ اس ٹکنالوجی کی وجہ سے ملک کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کو کوئی نقصان تو نہیں ہوگا۔جوہی چاولا اکثر موبائل ٹاوروں سے نکلنے والی مضر تابکاری(ریڈیشین‘ کے خلاف رہی ہیں اور لوگوں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کرتی رہی ہیں ۔
اُنہوں نے مہاراشٹر کے موجودہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ایک خط لکھا تھا ، جس میں موبائل ٹاوروں اور وائی فائی ہاٹ اسپاٹ سے نکلنے والے ریڈیشن کی وجہ سے بنی نوع انسان ، جانوروں ، پرندوں اور پودوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں انتباہ درج ہے ۔



