سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

شکتی کپور: ویلن سے کامیڈی کنگ تک کا شاندار فلمی سفر

سلام بن عثمان

شکتی کپور ۳ ستمبر ۱۹۵۲ کو دہلی میں ایک پنجابی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام سنیل سکندر لال کپور ہے اور فلمی نام شکتی کپور، سنیل دت شکتی کپور کے فلمی سفر میں گاڈ فادر بن کر آئے ساتھ فلمی نام شکتی کپور سنیل دت نے ہی دیا۔ سنی دت اپنے بیٹے سنجے دت کو پہلی مرتبہ بطور ہیرو پیش کرنے جارہے تھے ان کی فلم ‘راکی‘ کے لئے انھوں نے منفی کردار کے لئے شکتی کپور کا انتخاب کیا۔

شکتی کپور کا فلمی نام

جب تک شکتی کپور نہیں بنے تھے سنیل سکندر کپور تھے، سنیل دت نے کہا تم میری فلم میں منفی کردار ادا کر رہے ہو سنیل سکندر کپور منفی کردار کے لئے دمدار نام نہیں معلوم ہوتا ہے کچھ لمحے سوچنے کے بعد سنیل دت نے کہا شکتی کپور نام صحیح ہے اور پھر فلم راکی سے فلمی نام شکتی کپور ہوگیا۔

خاندانی پس منظر اور بچپن

والد سکندر لال کپور اور والدہ سشیلا کپور۔ شکتی کپور بچپن سے ہی بہت شرارتی تھے جس کی وجہ سے انھیں تین مرتبہ اسکول سے نکالا گیا تھا۔ دلی کے کروری مل کالج سے گریجویشن کیا۔ انھیں بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کو شوق تھا اور ان کے اسی شوق کی وجہ سے کالج میں داخلہ ملا تھا۔ کالج میں کرکٹ کھیلنے کے دوران اپنے ہی ٹیم کے کپتان کی گرل فرینڈ سے عشق ہوگیا جس کی وجہ سے ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔

کریئر کی ابتدا

شکتی کپور نے اس ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے کرکٹ اور گرل فرینڈ دونوں کو خیر باد کہا۔ گریجویشن کے بعد والد چاہتے تھے کہ شکتی گھریلو بزنس میں ساتھ دیں والد ٹیلر ہونے کے ساتھ خود کا ذاتی کاروبار تھا۔ شکتی کپور چاہتے تھے کہ وہ ٹورز اینڈ ٹراویلس کا بزنس شروع کرے جس کی وجہ سے گھر میں اکثر تناؤ کا ماحول رہتا تھا۔

ماڈلنگ کا آغاز

شکتی کپور بچپن سے ہی شرارتی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کچھ الگ کرنے کا مزاج رکھتے تھے اور ان کے بات کرنے چہرے کے تاثر کو دیکھتے ہوئے ان کے دوست انھیں اکثر فلموں کا ہیرو کہتے تھے جس کی وجہ سے شکتی کپور نے ذہن بنایا کیوں نہ ماڈلنگ کی جائے انھوں نے ماڈلنگ میں قسمت آزمائی۔ اس وقت دلی کے کرول باغ علاقہ میں وشنو پان والا رہتا تھا وہ اکثر شکتی کپور کو فلموں کے لئے حوصلہ دیا کرتا کہ تم فلموں میں کام کیوں نہیں کرتے۔

پونہ کا سفر

وشنو نے اس وقت شکتی کپور کی ماڈلنگ والی تصویر بھی اپنے دوکان پر لگا رکھی تھی۔ شکتی کپور ماڈلنگ کے وقت اپنے دوستوں کے ساتھ ممبئی آئے اور پھر پونہ کی فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹی ٹیوٹ میں اداکاری سیکھنے کے لئے داخلہ لیا۔ اداکاری سیکھنے کے دوران شکتی کپور کے ساتھ ریگینگ بھی ہوئی، ریگینگ کرنے والا اور کوئی نہیں متھن چکرورتی تھے بعد میں دونوں بہت اچھے دوست ثابت ہوئے۔ شکتی کپور اداکاری کے امتحان میں کامیاب ہوئے مگر ان کے دوستوں کو کامیابی نہیں ملی۔

پہلی فلم اور کامیابی کا آغاز

ایف ٹی آئی آئی سے کامیاب ہونے کے بعد بالی ووڈ میں جد و جہد جاری تھی۔ انھیں پہلی فلم کھیل کھلاڑی ملی جس میں دھرمیندر اور ہیما مالنی تھے۔ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی مگر اس فلم میں شکتی کپور کچھ خاص کردار میں نظر نہیں آئے اور بالی ووڈ میں اپنی شناخت نہیں بنا سکے جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔ اس وقت کچھ چھوٹے کردار کرتے رہے۔

فیروز خان سے ملاقات

اس درمیان ایک حادثہ ایسا پیش ہوا کہ شکتی کپور کو ایک بڑی بینر کی فلم کا موقع ملا۔ ایک روز اپنے حسب معمول اپنی پرانی فیٹ کار لے کر لنکنک روڈ کام کی تلاش میں جارہے تھے کہ اچانک ان کی کار کسی مرسیڈیز سے ٹکرا گئی اور شکتی کپور اپنی کار سے باہر نکل کر غصے کے انداز میں کہنے لگے آپ نے میری گاڑی کا نقصان کیا ہے مجھے پیسے چاہیے، مرسیڈیز سے باہر آنے والا شخص کوئی اور نہیں اس وقت کا مشہور فلم ساز اور سپر اسٹار فیروز خان تھے۔

فلم قربانی میں کامیابی

فیروز خان تو وہاں سے چلے گئے مگر شکتی کپور کا وہ انداز اور چہرہ کے تاثر ات فیروز خان کو متاثر کر گئے۔ اس وقت فیروز خان اپنی فلم "قربانی” پر کام کر رہے تھے۔ فیروز خان نے اپنی ٹیم سے کہا کچھ روز پہلے ایک لڑکے کی گاڑی میری گاڑی سے ٹکرا گئی بہت ہی عجیب اور پر کشش انداز تھا اس لڑکے کا، اگر وہ مل جائے تو میری فلم میں کچھ بات بن جائے گی۔

فیروز خان کے ساتھ ملاقات

شکتی کپور اپنے کام کے سلسلے میں کے کے شکلا سے اکثر ملاقات کے لئے جاتے تھے، اس درمیان اتفاق سے پہنچے کے کے شکلا نے جیسے ہی شکتی کپور کو دیکھا تو کہنے لگے تمہاری تقدیر خراب ہے فیروز خان ایک فلم بنا رہے ہیں اور فی کردار کے لئے وہ کسی نے لڑکے کو موقع دے والے ہیں کوئی ہے جو ان کی مرسیڈیز کار سے ٹکر ہوگئ تھی، اس کی تلاش میں ہے۔

شکتی کپور نے فوری طور پر کہا شکلا جی وہ میں ہی ہوں۔ قربانی فلم میں بہترین منفی کردار کو ادا کیا اور بالی ووڈ میں اپنی شناخت بنائی۔

شکتی کپور کا ترقی کا سفر

شکتی کپور کے لئے سال ۱۹۸۰-۸۱ بہت بیش قیمتی رہا کیوں کہ بالی ووڈ کی دو بڑے بینر کی فلم ملی تھی سنیل دت کی فلم "راکی” اور فیروز خان کی فلم "قربانی” ملی تھی۔ یہ دونوں فلم شکتی کپور کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوئی اس کے بعد شکتی کپور نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

مزاحیہ اداکاری کا آغاز

شکتی کپور نے جب اپنی محنت لگن کے ذریعے شہرت حاصل کی اور انڈسٹری میں مقبولیت ملی تو انھیں معاون اداکار کے طور پر بھی فلمیں ملنے لگیں جن میں فلم "ستہ پے ستائش ہے” اور اسی درمیان بطور مرکزی کردار والی فلم بھی ملی۔

شکتی کپور کی مزاحیہ کامیابیاں

شکتی کپور نے مزاحیہ کردار بہت ہی بہترین اور منفرد انداز میں ادا کیا جس کی وجہ سے انھیں کئی مزاحیہ کردار کے لئے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا اور کئی مرتبہ ایوارڈز کی فہرست میں بھی شامل رہے۔ ان کی کچھ مزاحیہ مشہور فلمیں:

  • راجہ بابو میں "نندو "کا کردار

  • تحفہ میں "آؤں لولیتا”

  • چالباز میں "میں ننھا سا چھوٹا سا بچہ ہوں”

  • انصاف میں "انسپکٹر بھینڈے”

  • باپ نمبری بیٹا دس نمبری میں "پرساد”

  • انداز اپنا اپنا میں "کرائم ماسٹر گو گو”

شکتی کپور کی ذاتی زندگی

شکتی کپور نے ۱۹۸۳ میں شیوانی کولہاپوری سے شادی کی۔ شیوانی کولہاپوری پدمنی کولہاپوری اور تیجسونی کولہاپوری کی بہن ہے۔ شکتی کپور کے دو بچوں میں بیٹا سدھانت کپور، اور بیٹی شردھا کپور ہے دونوں ہی بالی ووڈ میں والد کی طرح شہرت کی بلندی پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button