لکھنو:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی کے شہر مہوبا میں پولیس سپرنٹنڈنٹ رہے ہندوستانی پولیس سروس کے معطل افسر منی لال پاٹیدارکو بھگوڑا قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے پاٹیدارکی گرفتاری پر 50000 روپئے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اب پولیس نے انعامی رقم میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب معطل آئی پی ایس افسر پاٹیدارکی گرفتاری پر ایک لاکھ روپئے انعام دیا جائے گا۔
چتر کوٹ دھام رینج کے آئی جی کے ستیانارائن کے حکم پر پریاگ راج زون کے اے ڈی جی پریم پرکاش نے پاٹیدار پر انعام کی رقم 50 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منیالال پاٹیدارملک کے پہلے آئی پی ایس آفیسر ہیں جن پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاٹیدارکی گرفتاری کے لئے یوپی پولیس کی ٹیمیں راجستھان اور گجرات کے احمد آباد سمیت دیگر ممکنہ مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ منیال پاٹیدار ضلع مہوبہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) تھے۔ مہوبہ کے تھانہ کبریائی علاقہ کے رہنے والے اندراکانت ترپاٹھی کو 8 ستمبر 2020 کو مشکوک حالت میں گولی مار دی گئی۔ 13 ستمبر کو کانپور کے نجی اسپتال میں علاج کے دوران اندراکانت کی موت ہوگئی۔ اندراکانت کی موت کے بعد اس کے بھائی نے اس وقت کے ایس پی منیالال پاٹیدارکے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔
اندرکانت کے بھائی روی کانت نے منی لال پاٹیدار، کبری اسٹیشن انچارج دیویندر شکلا، کانسٹیبل ارون یادو، تاجر برہمنند اور نریش سونی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ روی کانت نے بھی بدعنوانی کے الزامات لگائے تھے۔ شکایت کے بعد حکومت نے منی لال پاٹیدار کو ملازمت سے معطل کردیا۔ تب سے پولیس پاٹیدار کی گرفتاری کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔



