سرورقگوشہ خواتین و اطفال

دوران حمل احتیاط برتیں, ✍️ڈاکٹر شگفتہ انصاری

حمل کے دوران صحت کے مسائل اور احتیاطی تدابیر

حمل کے دوران پیٹ کے نچلے حصے میں درد کی وجوہات

اگر دورانِ حمل پیٹ کے نچلے حصے میں مسلسل یا وقفے وقفے سے درد ہو تو یہ رحم میں کسی مسئلے کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ رحم کی بے قاعدگیاں یا غیر معمولی تبدیلیاں اسقاط حمل کا سبب بن سکتی ہیں۔ اگر متوقع مدت سے پہلے اندام نہانی سے خون کی آمیزش کے ساتھ شفاف رطوبت خارج ہو تو یہ قبل از وقت زچگی کی علامت ہو سکتی ہے۔

بار بار پیشاب اور سوجن کے مسائل

بار بار تکلیف کے ساتھ پیشاب آنے کا مطلب ہے کہ مثانے یا گردے میں یقینی طور پر کوئی انفیکشن ہے۔پاؤں کی #سوجن، انگلیوں یا گھٹنوں کے جوڑ میں ورم بھی ایک منفی علامت ہے ، اس  کیفیت کے خاتمہ کیلئے نمک کے استعمال میں کمی اور پیشاب اور ادوایت کا استعمال عام طور پر مفید رہتا ہے۔اگر حمل کے ابتدائی آٹھ ماہ میں خون آنا مسلسل #درد جیسے کوئی نوکیلی چیز چبھتی ہو جاری رہے تو امکان ہوتا ہے، کہ حمل گر جائے گا،

حمل کے دوران خون آنا اور بخار

اندام نہانی سے گلابی رنگت جیسا سیال، حمل کے اٹھایسویں ہفتے میں رسنے لگیتو یہ بچہ دانی میں کسی بے قاعدگی یا گڑ بڑ کا اشارہ کرتا ہے۔ حاملہ خاتون کے جسم کا درجہ حرات کبھی زیادہ ہو جائے بخار تو بھرپور توجہ دینا چاہیے، #حمل کے دوران بخار سارے عمل کو متاثر کرکے غیر ضروری پچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

متلی، قے اور پانی کی کمی

بار بار متلی ہو لیکن قے کے ساتھ بہت کم پانی یا بالکل ہی #پانی نہ ہو تو یہ بات تشویشناک ہوتی ہے،ڈاکٹر سے مشورہ لیں، اگر #حاملہ #عورت کے معدے میں خواراک بالکل نہ ٹھہرتی ہو تو یہ ماں کے ساتھ ساتھ بچے کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

زچگی سے قبل بچے کی حرکت اور دیگر احتیاطی تدابیر

#زچگی سے 24 گھنٹے پہلے عام طور پر بچے کی کوئی حرکت محسوس نہیں ہوتی ہے، یہ پرسکون کیفیت میں ہوتا ہے، لیکن اگر بچے کو حرکت کرتے ہوئے 48 گھنٹے گزر جائیں تو فورا ڈاکٹر کو بتائیں تاکہ اصل صورتحال سمجھ میں آئے۔

حمل کے دوران جسمانی حفاظت اور جلد کی دیکھ بھال

عورت کے جسم کی عمومی حفاظت۔حمل کے دوران پیٹ پھول کر بڑا ہو جاتا ہے، جلد  پھیل جاتی ہے جلد کے نیچے متصلہ ریشے الگ الگ ہو جاتے ہیں اور جلد پر سفید نشان پڑ جاتے ہیں، اس کیفیت سے بچنے کیلئے پیٹ اور چھاتیوں پر تیل کا مساج کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسا تیل جس میں وٹامن ای شامل ہو، ان دنوں پیٹ یا چھاتیوں پر کسی قسم کی خراش نہیں آنی چاہیے کیونکہ اس کا نشان طویل عرصہ تک موجود رہتا ہے۔

اگر آپ کو جلد پر خارش محسوس ہو تو اپنے ہاتھوں سے نرمی اور ملامت سے کھجائیے۔اگر آپ ہونے والے بچے کو اپنا دودھ پلانے کا ارادہ رکھتی ہیں، تو اپنی چھاتیوں کے نپل چھٹے ماہ سے تیارہ کرنا شروع کر دیں، روزانہ کم از کم دو تین بار اپنے نپل کو کچھ دیر کیلئے انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے رول کیجئے، ہلکا سا باہر کھینچئے نپل باہ آ جائے تو ان پر ملائمت سے زیتون کے تیل کا مساج کریں، ایک غلط فہمی دور ہونی چاہئے بچے کو دودھ پلانے سے چھاتیاں پستان بڑی نہیں ہوتیں، دودھ پلانے کے عرصہ میں زیادہ ڈھیلی ڈھالی بریزر استعمال نہ کیجئے،

اس طرح چھاتیاں متناسب رہیں گی، البتہ حمل کے دوران ڈھیلے ڈھالے لباس پہنے، بازار میں اس مقصد کیلئے خوبصورت ڈیزائنوں میں لباس دستیاب ہوتے ہیں، یاد رکھیئے جسم کو پرکشش رکھنے کا طریقہ اٹھنے بیٹھنے کے درست انداز اور اچھے لباس میں ہے۔حمل کے دوران ایسا لباس استعمال کیجئے جو آرام دہ ہو اور آنے والے دنوں میں جسم کے پھیلاؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہو، اونچی ایڑھی کا جوتا استعمال کرنا بند کردیں، آرام دہ اور فلیٹ چپلیں پہنے۔

حمل کے دوران ٹانگوں کی وریدوں کا پھولنا

حمل کے آخری دنوں میں بہت سی عورتوں کی وریدیں، دل کے والوز کی ناقص کار کردگی کے سبب پھول جاتی ہیں اور جلد پر نمایاں ہو جاتی ہیں، یہ کیفیت ٹانگوں کی دریدوں میں زیادہ واضع طور پر دیکھنے میں آتی ہے، جن خواتین میں یہ صورتحال کام کاج کی نوعیت کی وجہ سے ہوتی ہے انہیں زیادہ دیر کھڑا رہنا پڑتا ہے۔حاملہ عورتوں کو مشورہ دیا جاتا ہے، کہ وہ اپنا زیادہ تر کام بیٹھ کر سر انجام دیں،

جب آپ بیٹھی ہوئی ہو، تو آپ کے پاؤں فرش وغیرہ پر چپکے ہوئے محسوس نہیں ہونے چاہیئے، اپنے پاؤں کے نیچے کوئی ایسی چیز رکھیں جس سے آپ کے پاؤں کے پنجے ایڑیوں دو تین انچ رہیں۔ اگر آپ کو مسلسل ایک جگہ کھڑے ہو کر کام کرنا پڑے تو ساکت و جلد رہنے کی بجائے ادھر ادھر متحرک رہیں، اگر وریدوں کے پھولنے کی کیفیت پیدا ہوجائے تو بستر سے اترنے سے پہلے پلاسٹ کی جرابیں پہن لیں،

اپنی ڈاکٹر کو صورتحال سے اگاہ کریں اور مناسب مشورہ لیں، اس کیفیت میں روزانہ ایک دفعہ دن میں گھنٹہ بھر چت لیٹیں۔ بعض اوقات ٹانگوں، ٹخنوں، پاؤں، ہاتھوں ،انگلیوں ،چہرے اور پنجوں پر سوجن ہوجاتی ہے، صورتحال حمل کے آخری دنوں میں پیش آتی ہے، سوجن کی وجہ پانی کا جسم کے ریشوں کی خالی جگہوں میں جمع ہو جانا ہے، نمک کا زیادہ استعمال پانی کو جسم میں روک لیتا ہے،اس لئے ایسی کیفیت میں نمک کا استعمال کم کردیں۔

حمل کے دوران معدے کے مسائل اور جلدی مسائل

مائع کی صورت میں غذاؤں کا استعمال کم سے کم کردیا جائے لیکن اس طرح قبض کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے، چنانچہ مناسب یہ ہی ہے کہ کہ اپنے تجربے کے مطابق نمک اور پانی کا استعمال اپنی جسمانی ضرورت کے مطابق کریں، آخری مہینوں میں جسم کا بوجھ خون کی لمبی شریانوں پر بڑھ جاتا ہے ، چناچنہ بے ہوشی اور دل ڈوبنے جیسی کیفیت نمودار ہوتی ہیں،

اگر یہ صورتحال پیش آجائی تو چند منٹوں کیلے چت لیٹ جائیں ان دنوں آئرن والی غذاؤں کا استعمال بڑھا دینا چاہئے۔ کچھ عورتوں کی ٹانگوں کے پٹھوں میں سختی آ جانے سے اینٹھن پیدا ہوجاتی ہے، اس سے نیند میں بھی خلل آ جاتا ہے، ٹانگوں کے اینٹھن والے حصوں کا مساج بھرپور انداز میں کیا جائے اور ان حصوں پر بعد ازاں پانی گرم کی بوتل یا گرم پیڈ رکھے جائیں۔

حمل کے دنوں کے مسائل میں ایک دل جلنا اور تبخیر معدہ  ہے، دل جلنے کی کیفیت دراصل سینے کے زیریں حصے میں جلن کا احساس ہے اگرچہ اس جلن کا تعلق دل سے نہیں ہوتا لیکن عام لوگ اسے یہی نام دیتے ہیں، اس مسئلہ کا حل ہلکی ہلکی اور سادہ غذائیں ہیں، طویل وقفے کے بعد زیادہ کھانے کی بجائے چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد تھوڑا سا کھانا مناسب ہے۔ حمل کے دوران جلد اور بالوں کی مناسب حفاظت خاص طور پر اہمیت رکھتی ہے،

کسی خوشبودار صابن سے روزانہ نہانا بہت ضروری ہے، صبح شام اپنی جلد پر لیموں کے رس اور ہلدی کے سفوف ملیں ، ملک کریم  لگائیں، روزانہ صبح شام غسل کیلئے باتھ روم میں جانیسے پہلے ایک چمچہ دہی چند قطرے بادام اور عرق گلاب شامل کرکے بدن پر ملیں اور پھر روئی سے صاف کرلیں، اس سے آپ کی جلد نرم و نازک اور تروتازہ رہے گی۔

رات کو اپنے جسم پر سکن لوشن لگائیں، یہ لوشن تیار کرنے کیلئے بادام، کھیرے کا پانی، شہد عرق گلاب، اور لیموں کا عرق ایک ایک چمچہ اچھی طرح ملا کر کسی بوتل یا مناسب برتن میں ڈالیں اور اسے فریج میں یا کسی ٹھنڈی جگہ پر رکھیں، اس لوشن کو روزانہ سونے سے پہلے نظر آنے والی جلد پر اچھی طرح ملیں، یہ لوشں آپ کے رخساروں سے پاؤں تک چھائیوں اور دھبوں کو مٹا دے گا، اور آپ کا رنگ نکھر جائے گا۔

کچھ خواتین حمل کے نتیجے میں چہرے پر پڑنے والی چھائیوں اور دھوپ کو گہرے میک اپ کے نیچے چھپانے کی کوشس کرتی ہیں، یہ غلط طریقہ کار ہے، میک اپ ہمیشہ ہلکا پھلکا کریں، اگر کسی خاتون کی جلد پر سخ باد نکل آنے کا رجحان ہو تو عرصہ حمل میں ان سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔

ان کی وجہ سے پریشان ہونا چھوڑ دیجئے، بعض اوقات خواتین کی جلد پر چھوٹے چھوٹے تل نمودار ہوجاتے ہیں، یا پھر کسی ایک جگہ پر ان کا اجتماع ہو جاتا ہے، یہ بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں، کیونکہ زچگی کے بعد یہ خود بخود غائب ہوجاتے ہیں۔

حاملہ خواتین کے لیے اہم مشورے

  • جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا صحت کے لیے بہترین ہے۔

  • فریش جوس اور غذائیت سے بھرپور غذا کا استعمال کریں۔

  • روزانہ ورزش اور ہلکی پھلکی چہل قدمی کو معمول بنائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button