سرورقگوشہ خواتین و اطفال

شادی اپنی پسند کی ہو یا والدین کی؟

سعدیہ اویس

شادی ایک ایسا بندھن ہے جس کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے۔ شادی کے لیے ہر کوئی خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہوتا ہے۔ کوئی اپنی پسند سے شادی کرتا ہے تو کوئی والدین اور گھر والوں کی پسند سے۔ شادیاں تو دونوں ہی اچھی ہوتی ہیں، لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زیادہ کامیاب کون سی شادی ہوتی ہے؟ عموماً ہمارے معاشرے کے متوسط طبقے میں پسند کی شادی کو زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ ایسا کرنے پر لڑکے اور لڑکی کو گھر والوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انھیں راضی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو پسند کی شادی میں بھی کوئی برائی نہیں بلکہ اس کے کئی فوائد بھی ہیں۔

پسند کی شادی کے فوائد

پسند کی شادی کے کئی فوائد ہوتے ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہوتے ہیں، جس کی بنا پر ذہنی ہم آہنگی پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، گھر والوں کی پسند سے ہونے والی شادی میں اکثر دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ پسند کی شادی میں جوڑا اپنی ذمہ داری پر شادی کرتا ہے، یعنی وہ زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کا خود سامنا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس طرح، وہ ہر چیلنج کا مل کر سامنا کرتے ہیں اور کسی بھی مسئلے پر ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے خود کو مضبوط بناتے ہیں۔ جبکہ ارینج میرج میں عام طور پر لڑکا اور لڑکی اپنی ازدواجی زندگی کی ذمہ داری اپنے والدین پر ڈال دیتے ہیں۔

پسند کی شادی میں دونوں ایک دوسرے کی پسند اور ناپسند کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بہت سی عادتیں بدل لیتے ہیں تاکہ ازدواجی زندگی خوشگوار رہے۔ اس کے برعکس، ارینج میرج میں چونکہ دونوں ایک دوسرے کی عادات سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لیے ابتدا میں انہیں ایڈجسٹ کرنے میں وقت لگتا ہے۔ پسند کی شادی کرنے والے جوڑے میں زیادہ تحمل پایا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی باتوں کو صبر اور بردباری کے ساتھ سنتے ہیں اور مشکلات میں ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں، بجائے اس کے کہ گھبرا کر کوئی بڑا فیصلہ کریں۔

لڑکے کے گھر والوں کا ردعمل

پسند کی شادی میں اکثر لڑکے اور لڑکی کو اپنے گھر والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر لڑکے کی والدہ کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات مائیں اپنی پسند پر بیٹے کی پسند کو ترجیح نہیں دیتیں اور اس فیصلے کو قبول کرنے میں وقت لیتی ہیں۔ تاہم، یہ ضروری نہیں کہ ہر گھر میں یہی صورتحال ہو، کیونکہ کچھ والدین اپنے بیٹے کی خوشی کو اولین ترجیح دیتے ہیں اور اس کی پسند کو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔ اکثر، باہمی رضا مندی اور محبت بھری کوششوں سے گھر والوں کی ناراضگی دور ہو جاتی ہے، اور بہو کو گھر میں خوش دلی سے قبول کر لیا جاتا ہے۔

گھر والوں کو کیسے منایا جائے؟

بیٹے کا اپنی پسند سے شادی کرنا یا اپنی مرضی کی شریکِ حیات چن لینا بعض اوقات والدہ کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ ایک ماں جس نے اپنے بیٹے کی ہر ضرورت کا خیال رکھا ہو، اس کے لیے یہ احساس مشکل ہو سکتا ہے کہ اس کا بیٹا کسی اور کو اپنی زندگی میں زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔ تاہم، ماں کا دل بہت بڑا ہوتا ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ سب کچھ قبول کر لیتی ہے۔ اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ والدہ کو ناراض چھوڑ کر گھر سے نکل جانے کے بجائے انہیں صبر و محبت کے ساتھ راضی کیا جائے۔ بہو اگر سسرال والوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئے تو جلد ہی وہ سب کے دل میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔

گھر کے کاموں میں دلچسپی لیں

چاہے گھر کے افراد ناراض ہی کیوں نہ ہوں، بہو کو چاہیے کہ وہ گھر کے کاموں میں دلچسپی لے۔ اچھے اور مزیدار کھانے بنانا سب کے دل میں جگہ بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ نہ صرف اپنا کمرہ صاف رکھیں بلکہ گھر کے دوسرے حصوں، خاص طور پر ساس کے کمرے کی بھی صفائی کا خیال رکھیں۔

فارغ وقت سب کے ساتھ گزاریں

جب بھی فارغ وقت ملے، اکیلے کمرے میں بند رہنے کے بجائے گھر کے دیگر افراد کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کے ساتھ گفتگو کریں، خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک خوش مزاج اور مہذب گفتگو سب کو اپنی طرف مائل کر سکتی ہے۔

تکلیف یا بیماری میں ساس کا خیال رکھیں

اگر ساس بیمار ہوں تو ان کے کھانے پینے اور دوا کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک اچھی تیمارداری نہ صرف ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ ان کے دل میں محبت اور اپنائیت بھی پیدا کرے گی۔

چاہے شادی ماں باپ کی مرضی سے ہو یا اپنی پسند سے، اگر رشتوں کی اہمیت کو سمجھا جائے اور کھلے دل سے سب کو اپنایا جائے، تو زندگی نہ صرف آسان ہو جاتی ہے بلکہ خوبصورت بھی لگنے لگتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button