بین الاقوامی خبریںسرورق

کلبھوشن کو اپیل کا حق، قومی اسمبلی سے بل منظور

اسلام آباد ،۱۱؍جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کی قومی اسمبلی نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو مؤثر بنانے کے لیے عالمی عدالت انصاف (نظر ثانی و غور) بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل کی سینیٹ سے حتمی منظوری اور صدر مملکت کے اس پر دستخط کے بعد بھارت کے مبینہ جاسوس کلبھوشن جادھو سمیت پاکستان میں قید فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے تمام غیر ملکی قیدیوں کو فوجی عدالتوں کی سزا کے خلاف اپیل کا حق مل جائے گا اور وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر سکیں گے۔

اس بل کے حوالے سے جمعرات کو قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن نے بل کے معاملے پر حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے بل کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم، حکومتی اکثریتی ایوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود اس بل کو منظور کر لیا۔اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے اس بل کو عجلت میں پاس کرانے کا الزام عائد کیا۔

حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کا ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے۔ ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کے لیے قانون منظوری کرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سے قانون موجود ہے کہ ہائی کورٹس میں فوجی عدالتوں کی سزا ؤں کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ کلبھوشن جادھو بھارتی جاسوس ہے لیکن بھارت اس کی تردید کرتا ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم محب وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں، ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں ایک جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے۔ حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "آج ایک بھارتی جاسوس کے لیے قانون بنایا جا رہا ہے۔ کل تک وزیرِ اعظم سے کہا جا رہا تھا کہ وہ کلبھوشن کا نام نہیں لیتے لیکن آج کلبھوشن کے لیے قانون سازی کی جارہی ہے۔ ہم اس سوچ کو کسی صورت سپورٹ نہیں کریں گے۔ ایوان میں بل پیش ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر نعرے بازی شروع کی اور اسپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے۔

ایوان میں بل پیش کرنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا کہ اگر عالمی عدالت انصاف (نظر ثانی و غور) بل 2020 قانون نہ بنا تو عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button