بین الاقوامی خبریں

حزب اللہ کا مالیاتی نیٹ ورک ، 7 افراد پر امریکہ کی خصوصی نظر

نیویارک ؍دبئی ، 12جون(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی وزارت خارجہ کے زیر انتظام پروگرام کے تحت ٹویٹر پر لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کے نام جاری کیے گئے۔مذکورہ پروگرام کی ویب سائٹ پر حزب اللہ کی فنڈنگ کے حوالے سے ایک مربوط رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں 7 افراد کے ناموں کو واضح کیا گیا ہے۔محمد قصیر:یہ 1967میں جنوبی لبنان کے قصبے دیر قانون النہر میں پیدا ہوا۔

اس کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے جن میں الحاج فادی نمایاں ترین عرفیت ہے۔ قصیر کو حزب اللہ کے لیے مالی رقوم فراہم کرنے والا مرکزی کردار شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقم کے حوالے سے بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔امریکی رپورٹ کے مطابق قصیر ان بہت سی کمپنیوں کی نگرانی میں مدد گار ہے جو تیل اور دیگر مصنوعات کی فروخت میں القدس فورس کے کردار کو مخفی رکھنے کے واسطے منظر عام پر استعمال ہوتی ہیں۔

قصیر حزب اللہ ملیشیا کے یونٹ 108 کی قیادت بھی کرتا ہے۔ یہ یونٹ القدس فورس کی رابطہ کاری سے اسلحہ ، ٹکنالوجی اور دیگر نوعیت کی سپورٹ کو شام سے لبنان منتقل کرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے۔محمد قاسم البزال: البزال 1984میں لبنان کے شہر بعلبک میں پیدا ہوا۔ اس کی ذمے داریوں میں حزب اللہ اور القدس فورس کے درمیان مالی کھاتوں کی موافقت رکھنا شامل ہے۔

وہ Talaqi گروپ کا ایک بانی رکن بھی ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے مطابق 2018ء کے اواخر سے البزال نے تلاقی گروپ اور دیگر کمپنیوں کو فنڈنگ، نظم و نسق اور تیل کی غیر قانونی کھیپوں کی ترسیل پر پردہ ڈالنے کے واسطے استعمال کیا۔ علی قصیر: علی قصیر 1992میں جنوبی لبنان میں پیدا ہوا۔ وہ ایران میں حزب اللہ کا نمائندہ اور القدس فورس اور حزب اللہ کو نفع دینے والی مالی اور تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے کا مرکزی کردار ہے۔

وہ حزب اللہ کے ذمے دار محمد قصیر کا چھوٹا بھائی ہے۔علی کی ذمے داریوں میں سامان کی فروخت کے نرخوں پر مذاکرات اور کارگو بحری جہازوں سے متعلق واجبات کے تصفیے شامل ہیں۔محمد کوثرانی:نیٹ ورک میں چوتھا نام محمد کوثرانی کا ہے جو عراق کے صوبے نجف میں پیدا ہوا۔ وہ لبنانی اور عراقی شہریت رکھتا ہے۔ کوثرانی عراقی حزب اللہ کی فورسز کا ایک اہم کمانڈر شمار ہوتا ہے۔

وہ ایران کے ہمنوا بعض گروپوں کے درمیان سیاسی رابطہ کاری بھی سنبھال چکا ہے۔اسی طرح وہ عراقی حکومت کے کنٹرول سے باہر جماعتوں کی کارروائیوں کے لیے سہولت کار بھی ہے۔ادہم حسین طباجہ: طباجہ حزب اللہ کے اندر اعلی سطح کے انتظامی عناصر کے ساتھ براہ راست روابط رکھتا ہے۔ وہ حزب اللہ کی جانب سے لبنان میں جائیدادوں کی ملکیت کا حامل ہے۔اسی طرح وہ اسی طرح وہ حزب اللہ کے زیر انتظام الانما پراپرٹی کمپنی میں زیادہ تر حصص کا مالک ہے۔

محمد ابرا ہیم بزی:محمد ابراہیم بزی 1964 میں پیدا ہوا۔ وہ لبنان کے علاوہ بلجیم کی شہریت بھی رکھتا ہے۔ حزب اللہ کی فنڈنگ کرنے والا ایک مرکزی کردار ہے۔ اپنی تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے حزب اللہ کو لاکھوں ڈالر پیش کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق حزب اللہ ایران ، عالمی تجارتی سرگرمیوں کی حامل کمپنیوں، سرمایہ کاری، عطیہ کنندگان کے نیٹ ورکوں، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کی براہ راست سپورٹ کے ذریعے سالانہ ایک ارب امریکی ڈالر حاصل کر لیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button