
سیاہ فام امریکی شہری کی ہلاکت کی ویڈیو بنانے والی کم عمر شہری جرنلسٹ کے نام
نیویارک:(اردودنیا/ایجنسیاں) صحافت کے شعبے میں اعلیٰ ترین ایوارڈ سمجھے جانے والا ’پلٹزر ایوارڈ‘ سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کی ویڈیو بنانے والی نو عمر لڑکی نے اپنے نام کر لیا ہے۔پلٹزر بورڈ کی طرف سے اس ایوارڈ کا ایک ایسے فرد کو دینا انوکھی مثال ہے جس کا صحافت میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس طرح کے کام کو عمومی طور پر سٹیزن جرنلزم‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
پلٹزر بورڈ کی طرف سے سٹیزن جرنلزم کو اہم قرار دیتے ہوئے ڈرنیلا فرازیئر کو اس کی بہترین مثال قرار دیا گیا۔پلٹزر بورڈ نے جمعے کو اس واقعے کی ویڈیو بنانے والی ڈرنیلا فرازیئر کی موبائل کے ذریعے بنائی گئی ویڈیو کا خصوصی حوالہ دیا۔پلٹزر بورڈ کے شریک چیئرمین مائنڈی مارکیز کا ا?ن لائن کیے جانے والے اعلان میں کہنا تھا کہ 18 سالہ ڈرنیلا فرازیئر کو اپنے موبائل کے ذریعے ایک ایسی ویڈیو بنانے پر شناخت ملی ہے جسے دیکھ کر لوگ چونک گئے تھے اور پولیس کی بربریت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
ڈرنیلا فرازیئر نے اس ویڈیو سے متعلق کم ہی بات کی ہے۔ تاہم جارج فلائیڈ کے قتل کے کیس کی سماعت کے دوران ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا جس میں ان کی ویڈیو بھی دکھائی گئی تھی۔ گزشتہ برس 25 مئی 2020 کو ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں جارج فلائیڈ کی ہلاکت اس وقت ہوئی تھی جب سفید فام پولیس افسر ڈیرک شاوین نے جارج فلائیڈ کو حراست میں لینے کے بعد نو منٹ تک ان کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا تھا۔
اس واقعے کی ویڈیو اردگرد کھڑے شہریوں میں موجود ڈرنیلا فرازیئر نے بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی جس کے بعد امریکہ کے کئی شہروں اور دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ ڈیرک شاوین اور ان کے دیگر ساتھیوں کو پولیس کے محکمے نے اس واقعے کے بعد ملازمت سے برخاست کر دیا تھا۔بعد ازاں منی ایپلس کی جیوری نے اپریل 2020 میں جارج فلائیڈ کے قتل کے الزام میں ڈیرک شاوین کو مجرم قرار دیا تھا۔
شاوین کو سزا سنانے کے لیے 25 جون کی تاریخ مقرر ہے۔ وہ 20 اپریل کو الزام ثابت ہونے کے بعد سے جیل میں ہیں اور جارج فلائیڈ کیس میں علیحدہ فیڈرل سول رائٹس کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔



