بین ریاستی خبریں

ٹیچر اور طالبہ نے رچائی مندر میں شادی ، پھر تھانہ پہنچ کر جان کی مانگی بھیک

عشق جو سر چڑھ کر بولے۔  

دھنباد(اردودنیا/ایجنسیاں) ٹیچراور طالبہ کے مابین ’عشق‘ کا معاملہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ میں ایسی محبت کی کہانیوں پر مبنی کئی فلمیں موجود ہیں ۔ویسے بھی عشق پر کس کا زور چلتاہے اور یہ کم بخت عشق تمام سرحدیں عبور کرلینے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے اسی کی مثال دھنبادمیں دیکھی گئی ، جب ایک ٹیوشن پڑھانے والے ٹیچرس سے طالبہ کو عشق ہوگیا۔

دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے،اور جلد ہی دونوں نے شادی بھی کرلی،لیکن شادی کے فورا بعد ہی یہ نوبیاہتا جوڑا سیدھا خواتین تھانے پہنچ کر تحفظ کی بھیک مانگنے لگا۔ استاد ٹیچرس کا نوبیاہتا جوڑا جو ضلع دھنباد کے علاقے بلیا پور ،تھانہ علاقہ کے سووریا گاؤں کا باشندہ ہے،شادی کے بعد دھنباد خاتون پولیس اسٹیشن پہنچ گیا۔

عاشق ٹیچر لڑکی کو ٹیوشن پڑھاتا تھا۔ جوڑے نے پولیس کو بتایا کہ ٹیوشن کے دوران عشق ہوا، پھردونوں نے شادی کرلینے کی ٹھانی ۔دریں اثنا جب لڑکی کے اہل خانہ نے لڑکی کی شادی کو کسی اور جگہ طے کیا، تو دونوں نے اپنے اپنے اہل خانہ سے محبت کے بارے میں بتایا۔ لیکن دونوں کے اہل خانہ نے اس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب اہل خانہ کی رضامندی نہ ملی تو یہ جوڑا پہلے مندر پہنچا، شادی کی،بعد ازاں خاتون تھانہ پہنچ کر جان کی بھیک مانگنے لگا۔

دونوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ چار سال سے ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں ، لیکن اہل خانہ نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا۔ مہیلا تھانہ نے شادی کے بعد پہنچے جوڑے کے اہل خانہ کو پولیس اسٹیشن بلایا اور تمام فریقین کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی۔

پریمی جوڑے نے کہا کہ چاہے گھر والوں نے اس پر یقین کریں یا نہ کریں ،لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔ مہیلا پولیس اسٹیشن کے اے ایس آئی نندنی کماری نے بتایا کہ بالغ جوڑا لو َ میرج کے بعد تھانہ پہنچاتھا، پولیس نے کوشش کی ،لیکن نوبیاہتا جوڑا ساتھ رہنے پر ڈٹے رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button