
کورونا وبا میں لوگوں کی فکر نہیں کی، وزیر اعظم صرف سیاست میں لگے رہے:پرینکاگاندھی کا مودی پرنشانہ
نئی دہلی:(اردودنیا/ایجنسیاں)کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کورونا وبا کی دوسری لہر میں لوگوں کی فکر نہیں کی۔ پرینکا کے مطابق وزیر اعظم نے سیاست کو ترجیح دی اور اپنی انتخابی مہم پر توجہ دی۔ ایک بیان میں پرینکا نے یہ بھی دعوی کیا کہ پوری دنیا نے دیکھا ہے کہ وزیر اعظم مودی حکومت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
پرینکا نے کہاکہ کیا وجہ ہے کہ ہمیں اس وبائی بیماری کے دوران ایک ہی چیز کا تجربہ کرنا پڑا جیسا کہ پچھلی صدی میں ہسپانوی فلو کی وبائی بیماری کے دوران ملک کے باشندوں نے کیا تھا؟۔ ہندوستانی حکومت کے ذریعہ بھگوان بھروسے چھوڑ دئے گئے ہندوستانی اپنی جانیں بچانے کے لئے کیوں بھاگ رہے تھے؟ گنگا ندی میں کئی دن تک تیرتی لاشوں کامنظر دیکھ کر پوری دنیا پریشان ہو گئی، ایسا کیوں ہوا؟۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایاکہ وبائی مرض کے آغاز سے ہی حکومت کا سارا زور حق کو چھپانے اور ذمہ داری سے بھاگنے پر تھا۔ اس کے نتیجے میں جب کرونا کی دوسری لہر نے تباہی مچا دینا شروع کی تو مودی سرکار بے عملی کی حالت میں چلی گئی۔ اس بے عملی سے وائرس کو خوفناک بربریت کے ساتھ بڑھنے دیا جس سے ملک کو بے حد تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر وہ ایک ذمہ دار لیڈر ہوتے اور وطن عزیز کی سپرد کردہ ذمہ داری کی پرواہ کرتے تو وہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے درمیان اسپتال کے بیڈوں کی تعداد کو کم نہیں کرتے۔
ان کے بقول اگر وزیر اعظم اپنے پروپیگنڈے اور اپنی شبیہ سے زیادہ ملک کے لوگوں کی زندگیوں کی قدر کرتے تو آج ملک میں ویکسین کا سنگین بحران نہ ہوتا۔ اگر وزیر اعظم اپنی کمبھ کرن نیند سے جاگتے اور 2020 کے موسم گرما میں جنوری 2021 تک انتظار کرنے کے بجائے ویکسین منگواتے تو ہم لاتعداد جانوں کو بچا سکتے تھے۔پریانکا نے دعویٰ کیاکہ اگر وزیر اعظم سیاست سے زیادہ ملک کے لوگوں کی زندگیوں کو اہمیت دیتے تو وہ کرونا کے خلاف اس غیر معمولی لڑائی میں ریاستوں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے۔
ٹی وی پر آنے اور ریاستی حکومتوں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار قرار دینے جیسے کام کرنے کے بجائے وہ ریاستوں کو وسائل مہیا کرتے، واجبات ادا کرتے اور اس لڑائی میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوتے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر وزیر اعظم قابل ایڈمنسٹریٹر ہوتے تو وہ اپنی حکمت عملی تیار کرتے اور کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر پیشگی تیاری کرتے۔ اگر وہ ایک قابل ایڈمنسٹریٹر ہوتے تو وہ سائنس اور جدیدیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے تھالی بجانااوردیا جلانے جیسے طریقے تجویز نہیں کرتے۔



