سوانح حیات فلمی و اسپوریٹسفلمی دنیا

ونود مہرہ نے اپنے وقت کے ہر اسٹارس اور سپر اسٹار کے ساتھ کام کیا

ممبئی:(اردودنیا.اِن/سلام بن عثمان)بالی ووڈ کے بدلتے دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بچپن سے ہی اداکاری کرتا آیا بچہ اداکار مستقبل میں بطور ہیرو اپنی شناخت نہیں بنا سکے، یہاں تک کہ ان بچوں کو بالی ووڈ میں بطور ہیرو بہت ہی کم موقع ملا،اور ملا بھی تو وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔

بچپن کے کردار ادا کرنے والے میں ونود مہرہ ان بچوں میں سے ایک ہے۔ جنھوں نے اپنا فلمی سفر 1958 میں فلم راگنی سے شروع کیا اور بعد میں بطور ہیرو بالی ووڈ میں اپنی بہترین اداکاری سے ایک الگ شناخت بنائی۔

13 فروری 1945 کو پنجاب کے شہر امرتسر میں ونود مہرہ پیدا ہوئے۔ والد پرمیشوری داس مہرہ، والدہ کملا مہرہ اور ایک بڑی بہن شاردا۔ آزادی کے بعد والدین نے ممبئی کا رخ کیا۔ونود مہرہ کی بڑی بہن شاردا بالی ووڈ کی کئی فلموں میں نظر آئی۔ ایک طرح سے گھر میں فلمی ماحول کو دور چل پڑا تھا جس کی وجہ سے اس کا اثر ونود مہرہ پر بھی پڑا اور وہ بچپن سے فلموں میں اداکار ی کرتے نظر آئے۔

ونود مہرہ نے اپنی تعلیم ممبئی کے سانتا کروز ہارٹ بوائز ہائی اسکول سے اپنی تعلیم مکمل کی اور ڈگری سینٹ زیویرس کالج ممبئی سے حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد ممبئی کی ایک کمپنی میں بطور مارکیٹنگ مینجر کرنے لگے اسی دوران 1965 میں آل انڈیا ٹیلینٹ کونٹیسٹ زیر نگرانی یونائیٹڈ پروڈیوسر اینڈ فلم فئیر کی جانب سے ہونے جارہا تھا،ونود مہرہ کے دوستوں نے زور دیا کہ تم بھی اس میں حصہ لو۔

دوستوں کی وجہ سے ونود مہرہ نے آل انڈیا ٹیلینٹ کونٹیسٹ میں حصہ لیا اس کمپٹیشن میں تقریباً دس ہزار سے بھی زیادہ لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اس میں راجیش کھنہ نے پہلا مقام حاصل کیا اور ونود مہرہ دوسرے نمبر پر رہے۔

ویسے تو ونود مہرہ بچپن سے ہی اداکاری کے میدان میں تھے۔ ٹیلینٹ کونٹیسٹ میں کامیابی کے بعد بھی کچھ سال تک موقع نہیں ملا۔ 1971 میں ایک فلم میں موقع ملا۔

جس کا نام تھا "ایک تھی ریٹا” اس فلم میں ونود مہرہ مرکزی کردار میں تھے اور ان کے مقابل ہیروئین تھی تنوجہ۔ اس فلم سے انھیں کچھ خاص شہرت یا شناخت نہیں ملی مگر اس دوران انھوں نے کافی جد جہد کی اور کئی بہترین فلموں میں اپنی بہترین اداکاری سے مداحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور بالی ووڈ میں ایک زبردست شناخت بنائی۔

اس وقت کی فلمیں تھیں پردے کے پیچھے،اعلان،امر پریم،لال پتھر،انوراگ، اور پھر ونود مہرہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک کے بعد ایک ہٹ فلموں کا سفر جاری رکھا چاہے وہ مرکزی کردار رہا ہو یا معاون کردار کے طور پر، ونود مہرہ نے تمام کرداروں کو بخوبی ادا کیا ساتھ ہی فلم ٹکر میں منفی کردار کو بھی بہت ہی بہترین انداز میں ادا کیا، اور بالی ووڈ میں اپنا ایک الگ مقام بنایا۔

ونود مہرہ نے اپنے وقت کے ہر اسٹارس اور سپر اسٹار کے ساتھ کام کیا جن میں راجیش کھنہ،سنیل دت،سنجیو کمار،امیتابھ بچن،جتیندر، دھرمیندر۔ہیروئین میں یوگیتہ بالی،موسمی چٹرجی،تنوجہ،شبانہ اعظمی، ریکھا، ہیمامالنی، بندیا گوسوامی۔

ونود مہرہ کی کچھ خاص فلمیں ناگن،جانی دشمن،گھر،سورگ نرک،کرتویہ،ساجن بنا سہاگن،جرمانہ،ایک ہی راستہ، خوددار، بے مثال ونود مہرہ کی پہلی شادی والدین کی پسند سے مینا بورکا سے ہوئی مگر شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ونود مہرہ کو دل کا دورہ پڑا اور اسپتال میں زیر علاج رہے،

ونود مہرہ اسپتال سے جب گھر آئے اور ایک اچھی صحت کے ساتھ بالی ووڈ میں واپسی کی اور اس درمیان اس وقت کی مشہور ہیروئین بندیا گوسوامی سے عشق ہوگیا اور بندیا گوسوامی سے شادی کرلی۔جب مینا بروکا کو معلوم ہوا تو مینا نے طلاق لے لی۔ مگر کچھ ہی عرصہ بعد بندیا گوسوامی نے مشہور فلم ساز اور ہدایت کار جے پی دتہ سے شادی کرلی۔

اس درمیان اخباروں کی سرخیاں بنی رہی ونود مہرہ اور ریکھا کے عشق کے متعلق، یہاں تک کے اخباروں اور رسالوں کے ذریعے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ریکھا اور ونود مہرہ نے شادی کر لی۔

ریکھا نے اس بات کو اپنے ایک انٹرویو کے ذریعے بتایا کہ ونود مہرہ میرے ایک اچھے دوستوں میں سے ہے اور ہماری شادی نہیں ہوئی ہے۔ ونود مہرہ نے 1988 میں کینیا کے بزنس مین کی لڑکی کرن سے شادی کی کرن سے لڑکی سونیا مہرہ اور لڑکا روہن مہرہ ہے۔

ونود مہرہ نے بالی ووڈ میں کافی شہرت حاصل کر لی تھی ان کا خواب تھا کہ وہ ایک فلم بنانے اور 1980 میں فلم کی تیاری بھی شروع کی فلم تھی "گرودیو” انل کپور رشی کپور اور سری دیوی ڈبل کردار میں تھی۔

مگر دوسری مرتبہ دل کا دورہ پڑنے سے ونود مہرہ کا انتقال 30 اکتوبر 1990 کو ممبئی کے اسپتال ہوا۔

ونود مہرہ کے انتقال کے بعد کرن مہرہ اپنے دونوں چھوٹے بچوں کے ساتھ کینیا چلی گئی وہیں دونوں کی پرورش اور تعلیم مکمل ہوئی اور دونوں آج بالی ووڈ میں اپنی شناخت کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ونود مہرہ نے کئی بہترین فلموں میں زبردست اداکاری سے اپنے مداحوں کو لطف اندوز کیا۔

ایوارڈ کی بات کی جائے تو ایوارڈز کی فہرست میں ضرور جگہ ملی مگر ایوارڈ سے کافی دور رہے۔ بہترین معاون اداکار کی فہرست میں فلم انورودھ، امردیپ اور بے مثال رہی ہے۔

انتقال کے بعد فلم نمائش کے لئے آئی پتھر کے پھول،انسانیت،عورت عورت عورت۔1980 میں انتقال کے بعد ان کی فلم "گرودیو” کو ونود مہرہ کے قریبی دوست راج سپی اور کرن مہرہ نے مکمل کی اور 1993 میں فلم باکس آفس پر آئی فلم کو اوسط درجہ کامیابی ملی۔

ونود مہرہ کی کچھ مشہور فلمیں سفید جھوٹ، انورودھ، گھر، انوراگ،جانی دشمن،دادا،امردیپ،دی برننگ ٹرین،ٹکر ( ڈبل کردار جس میں منفی کردار بھی تھا)جیوتی بنے جوالا،جولا مکھی،پیارا دشمن،پروفیسر پیارے لال،استادی استاد سے،بے مثال،ڈائل 100،خوددار، اور نوکر بیوی کا۔

ونود مہرہ نے اپنے فلمی سفر میں 100 سے بھی زیادہ فلموں میں کام کیا۔ فلمی شائقین ونود مہرہ کو ان کی فلم انوراگ، دادا، بے مثال جانی دشمن ان فلموں سے انھیں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button