
ممبئی:(اردودنیا.اِن/مومن فیاض احمد) کرونا مہار مہاری کی وجہ سے تعلیم کے شعبے کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔اس کے مسلسل پھیلائو کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں۔اس کی وجہ سے بہت سی اہم تبدیلیاں بھی واقع ہوئی۔ آن لائن تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا۔قابل مبارکباد ہیں وہ اساتذہ جو ایسے سنگین حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اپنے ویڈیوز بنانا شروع کیے ۔آن لائن پڑھائی کے بہت سے سافٹ ویئر سیکھے۔
کرئیر کا کوئی بھی شعبہ ہو کوئی بھی کورس ہو،کوئی بھی پیشہ ہو اس میں محنت ،دلچسپی ،لگن اور ایمانداری بہت ضروری ہے جب ہی ہم کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیں اور اس پر مستقل طور پر قائم بھی رہ سکتے ہیں |
اپنی تدریس کو بہتر،دلچسپ اورموثر بنانے کے لیے ہزاروں روپے تعلیمی سافٹ ویئرخریدنے کے لیے بھی خرچ کیے۔طلبہ کے مستقبل کو بہتر سے بہتربنانے کے لیے بے انتہا محنت کی۔بہت سے اساتذہ نے اپنے یو ٹیوب چینل کے ذریعے بے شمار طلبہ کو فائدہ بھی پہنچایا۔بہت سے والدین،طلبہ اور سرپرستوں کی کم دلچسپی کی وجہ بہت سے طلبہ آن لائن ذریعہ تعلیم سے فائدہ اٹھانے سے محروم بھی رہے۔اس کی بہت سی وجوہات ہے۔اس کا تذکرہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
قابل مبارکباد ہیں وہ اساتذہ جو ایسے مشکل حالات میں بھی اپنی کوشش جاری رکھی علم کے چراغ کو آگے بڑھایااور اپنے پیشے کے ساتھ نہ صرف انصاف کیا بلکہ دوسرے اساتذہ کے لیے تقلید اور تحریک کا سبب بھی بنے۔ بہر حال حالات کیسے بھی ہوں اگر نظر صرف اور صرف مقصد پر ہو تو اسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اساتذیہ کرام نے اپنی محنت کو جاری رکھا ۔
اب طلبہ کی باری ہے کہ وہ اس سے کتنا فیض حاصل کر سکتے ہیں۔علم و ہنر ایک ایسی چیز ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا ہے ۔چور،چور ی نہیں کرسکتا ہے۔کرئیر کا کوئی بھی شعبہ ہے کوئی بھی کورس ہو،کوئی بھی پیشہ ہو اس میں محنت ،دلچسپی ،لگن اور ایمانداری بہت ضروری ہے جب ہی ہم کامیابی کی بلندیوں پر پہنچ سکتے ہیں اور اس پر مستقل طور پر قائم بھی رہ سکتے ہیں۔
اس مضمون میں جس کورس کا ذکرکیا جار ہا ہے اس میں بھی ضروری نہیں ہے کہ امیدوار بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہو۔اپنی محنت اور صلاحیت کی بنا پر نام کے ساتھ ایک اچھی اور پر کشش تنخواہ بھی حاصل کرسکتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں زراعت کے بعد جس شعبے میں بہت زیادہ توجہ دی جاتی ہے وہ ہے ٹیکسٹائل۔ہندوستان کے کپڑوں کی دنیا بھر میں بہت مانگ ہے۔مستقبل میں کپٹروں کا بازار فیشن اور ریکارڈ ہائوس کرئیر میں ایک نام بڑھتا ہی جا رہا ہے اور وہ ہے فیشن ڈیزائننگ۔
آج ہمارے ملک میں جگہ جگہ فیشن شو کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ جس سے بہت سے مشہور لوگ اس سے جڑتے جا رہے ہیں۔ جو لوگ تخلیقی صلاحیت کے مالک ہیں ان کو فیشن کا شوق ہے ۔اس میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لیے یہ بہت اچھا بزنس ہے۔ اس میں کام اور نام کے ساتھ اچھی اور پرکشش تنخواہ بھی ہے۔ ایک فیشن ڈیزائنر کا کام ہوتا ہے کہ ڈریس کو نئے نئے فیشن میں ڈھالنا اور مارکیٹ میں لوگوں کی پسند اور نا پسند کو دیکھتے ہوئے فیشن کو کریئٹ کرنا۔
فیشن ڈیزائننگ کے نام سے بہت سے لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ یہ صرف کٹننگ اور سلائی کے لیے ہوتا ہے۔جب کہ ایسا نہیں ہے یہ صرف ٹیلر بننے کے لیے نہیں ہے۔فیشن ڈیزائن کا اصل مطلب ہوتا ہے ڈیزائنر بننا نا کہ صرف ٹیلر بننا ہے۔
تعلیمی قابلیت: فیشن ڈیزائننگ کے بہت سے کورسیس ہیں کچھ شارٹ ٹائم تو کچھ طویل مدتی ہیں یعنی ایک سے چار سال کے درمیان یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کون سا کورس منتخب کریں ۔
اس سے جڑے کچھ کورسوں کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت ہشتم کامیاب ہونا ضروری ہے۔ جب کہ کچھ کورس کے لیے بارہویں کامیاب ہونا ضروری ہے۔جس سے آپ کو اچھے کالج میں داخلہ مل سکتا ہے۔ کچھ کالجوں میں داخلے کے لیے انٹرنس امتحان کے مرحلے سے بھی گزرنا ہوگا۔جس کے نصاب میں حساب،انگلشں کی بنیادی معلومات کے ساتھ ڈرائنگ بھی شامل ہے۔ اگر اس شعبے میں آنا چاہتے ہیں تو دسویں اور بارہویں کے بعد سے ہی خود کو تیار کر لینا چاہیے ۔
درکار صلاحیت:ایک کامیاب فیشن ڈیزا ئنر بننے کے لیے ڈرائنگ،کلاتھ ڈیزائننگ ،پیٹرن،ٹیکسٹائل،کلر،ٹیکسر فیشن انڈسٹری کی اچھی معلومات ہونا چاہیے۔ مارکیٹ میںفیشن کے بارے میں اچھی جانکاری ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو ٹیکسٹائل، پیٹرن ،کلر وغیرہ کی اچھی معلومات ہے جب ہی ایک اچھا پروفیشنل اور کامیا ب فیشن ڈیزائنر بن سکتے ہیں۔ فیشن ڈیزائننگ میں کلر کمبینیشن(Colour Combination) اور کپڑوں کی مختلف نوعیت اس کی بنائی کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔فیشن کبھی بھی مستقل نہیں ہوتا ہے ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔
اس میں وقت کے ساتھ ہمیشہ تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔موسم کے لحاظ سے بھی اس میں تبدیلی ہوتی ہے۔سردی کے موسم میں اس کے مطابق ہی فیبرک دیکھنے کو ملے گا اور گرمی میں گرمی کے رنگ و روپ کے مطابق کپڑے ملیں گے۔
اہم کورسیس:کچھ گارمینٹ سے متعلق کورس Apparel Manufacturing Technologyکے لیے امیدوار کو بارہویں کامیاب ہونا چاہیے۔ اس کورس کی مدت ایک سال ہے۔کورس کے لیے امیدوار کو گریجویشن یا AMT کامیاب ہونا چاہیے اس کورس کی مدت تین ماہ ہے۔
Sewing Mashing Operator : ا س کے لیے دسویں پاس ہونا چاہیے۔ اس کی مدت تین ماہ ہے۔Pattern Cutting Master : اس کے لیے امیدوار دسویں پاس اور مدت چھ ماہDiploma in Fashion Sampling/Coordination اس کے لیے بارہویں پاس سالProduction Supervision/Quality Control: بارہویں پاس مدت چھہ ماہFinishing/Packing بارہویں پاس مدت تین ماہMachine Mechanic Course : دسویں پاس چار ماہGarment Checker Course : آٹھویں پاس مدت تین ماہ اس کے علاوہ اس سے متعلق بہت سے ڈپلومہ کورسیس ہیں۔جو اپنی ضرورت کے لحاظ سے کر سکتے ہیں۔
ڈیزائننگ: یہ تین سال کا کورس ہے جس ک لیے بارہوں کامیاب ہونا ضروری ہے۔ اس کورس کو کرنے کے بعد کسی بھی ایکسپورٹ ہائوس میں ڈیزائنر، فیشن کوآرڈینٹر، کوالٹی کنٹرولر، فیشن مرچنڈائزنگ وغیرہ کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔اس کورس کے ذریعے کوسٹیوم، جویلر، چمڑے کا سامان بنانا بھی سکھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیزائننگ میں خود کا کام کر کے ایک اچھے ڈیزائن بھی جنریٹ کر سکتے ہیں۔
فیشن ڈیزائننگ: یہ تین سال کا کورس ہے اسے کرنے کے لیے بارہویں میں پچاس فی صد مارکس چاہیے۔ او۔بی ۔سی اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے پانچ فی صد مارکس کی رعایت ہے۔ اس کے بعد میرٹ کے مطابق داخلہ ملتا ہے۔ اس کورس کو مکمل کرنے کے بعد فیشن ڈیزائنر، پیٹرن میکر، اسٹائلسٹ، فیشن کوآرڈنیٹر،فیشن ایلیسٹیٹر کے طور پر ملازمت یا فری لانس کام کرسکتے ہیں۔
مارکیٹنگ اور مرچنٹڈائزنگ : یہ ڈپلومہ کورس دو سال کا ہے۔اسے مکمل کرنے کے بعد فیشن ٹکنالوجسٹ کے طور پر ملازمت کر سکتے ہیں۔ آج کے وقت میں اس کا مستقبل بہت اچھا ہے جن کی کمیونیکیشن اسکیل اچھی ہے ان کے لیے ایک بہترین متبادل ہے۔ بہت سی کمپنیاں دوسرے سال ہی انٹریو کے لیے بلاتی ہے۔
گارمینٹ مینوفکچرنگ : دو سال کا ڈپلومہ
لیدر گارمینٹ ڈیزائننگ و ٹیکنالوجی :گریجویٹ ہونا چاہیے۔ کورس مکمل کرنے کے بعد اسٹائلسٹ لیدر ڈیزائننگ کے طور پر یا فری لانس کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
Knitwear Designin & Tehnology Design : یہ دو سال کا ڈپلومہ ہے اس کے لیے گریجویٹ ضروری ہے۔
Acessories Designing & Fashion Designing : اس میں جوتے ، بیگ، بیلٹ ،ہاتھ کے بیگ ،جویلری ڈیزائننگ وغیرہ سکھائی جاتی ہے۔اگر آپ کی دلچسپی ہے تو یہ کر سکتے ہیں ضروری نہیں ہے کہ صرف کپڑوں پر ہی ڈیزائننگ کی جائے۔
ملازمت کے مواقع: جس ادارے سے آپ نے یہ کورس کیا ہے وہاں سے کیمپس پلسمنٹ کے ذریعے روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔بہت سی کمپنیاں ہیں جیسے اروند مل، ٹاٹا انٹرنیشنل، ویزال میگا، کیرون ،بھار تی ویلمارٹ، ڈیزائن اینڈ ڈیکور(فیب انڈیا)، کارلے انٹرنیشنل پرائیویٹ لیمیٹیڈ، پال فیشن،ریلائنس برانڈ لیمیٹیڈ، شری بھارت انٹرنیشنل، جن میں روزگار کے مواقع نکلتے رہتے ہیں۔
اگر آپ کو جاب نہیں ملتا ہے تو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کسٹیوم اسٹور، مووی اسٹوڈیو،ٹھیٹر،ر یٹیل منیجر، اسسٹنٹ ڈیزائنر، اسٹائلسٹ،انٹرپریونر، فیشن کوآرڈینٹر،ایکسسری ڈیزائنر، پیٹرن میکر، پروڈکشن منیجر کے طور پر کاکرسکتے ہیں۔اگر ملازمت نہیں کرنا ہے تو خود کی کمپنی کھول سکتے ہیں۔
جس کے ذریعے نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک میں بھی اپنے کپڑوں کو ایکسپورٹ کر کے بہت اچھا کما سکتے ہیں۔یا پھر کسی کمپنی کے لیے ڈیزائننگ کا کا م کر کے اس میں بھی اچھا پیسہ کما سکتے ہیں۔اس کورس میں ملازمت کا اسکوپ بہت زیادہ ہے۔ویسے بھی آج کے دور میں کپڑوں کی کتنی اہمیت ہے۔
ڈپلومہ مکمل کرنے کے بعد کیا کام کر سکتے ہیں؟
۱) اس میں کسی کپڑوں کی کمپنی یا کسی فیشن ہائوس میں بطور فیشن ڈیزائنر کے کام کرسکتے ہیں۔
۲) اپنے ذریعے بنائے ہوئے یا ڈیزائن کیے ہوئے کپڑوں کا شو روم کھول سکتے ہیں۔ خود کے ڈیزائن کیے ہویے کپڑوں کو بیرون ملک بھی بھیج سکتے ہیں یاپھر اپنا خود کا بوٹیک بھی کھول سکتے ہیں۔ ٹی۔وی ، فلم ،ٹھیٹر وغیرہ کے لیے کسٹیوم ڈیزئننگ کا کام کر سکتے ہیں۔ فری لانس کے طور پر الگ الگ کمپنیوں میں کام کر کتے ہیں۔
اہم ادارے
1) National Institute of Fashion Technology.
2) National Intitute of Desingning (Ahmedabad)
3) Pearl Fashion Academy. 4) South Delhi Polytechnic for women (new Delhi)
5) Lady Irwin College Delhi 6) J.D. Institute of Fashion Technologh Mumbai
7) IITC Mumbai. 8) Nirmala Niketan Mumbai 9) SNDT Women University Mumbai.
10) Sophia Polytechnic Mumbai.



