قومی خبریں

افریقی ممالک کے بھارت پناہ گزینوں پرعرصہ حیات تنگ

photo outlook

دہلی: (ایجنسیاں) صومالیہ میں خانہ جنگی سے بچکر بھارت میں پناہ لینے والے کئی افریقی باشندوں خصوصاً صومالیہ اورایتھوپیا کے شہریوں کوکئی سالوں سے دہلی میں آبادہونے کے باوجودخطروں کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ۔

فری لانس صحافی تروشی اسوانی نے سوشل میڈیاپروائرکیلئے پیش کردہ رپورٹ میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایاکہ دہلی کے نظام الدین مرکزکے تبلیغی جماعت کے اراکین کومارچ ۲۰۲۰؍ سے نافذالعمل لا ک ڈاؤن کے دوران اے بی پی نیوزچینل،زی نیوزاورانڈیاٹی وی چینلوں پرتبلیغی جماعت کے اراکین کوخودکش بم،کروناجہادی اورکرونابم جیسے تذکروں کے ساتھ بدنام کرنےکاسلسلہ شروع ہوا،

ان میں صو مالیہ اورایتھوپیاکے پناہ گزین شہریوں کوبھی نہیں بخشاگیا۔حال ہی میں دہلی عدالت نے ۳۶؍غیرملکی تبلیغی جماعت کے اراکین کوعدالت سے بری کردیاہے،لیکن صومالیہ اورایتھوپیاکے پناہ گزین شہری دہلی کے کھر کی،مالویہ نگر،بھوگل،جنگ پورااوروزیرپوراجیسے گنجان آبادی والے علاقوں میں اب بھی آبادہیں۔رپورٹ کے مطابق پناہ گزین خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ تبلیغی جماعت کی بدنامی کے بعددہلی کے فسا دات نے ان کاجینادوبھرکردیاہے۔

مذہب اسلام سے تعلق اورحجاب جیسی مسلم شناخت کی وجہ سےانکی جانوں کوخطرہ اوربھی بڑھ گیاہے۔کئی صومالی اورایتھوپیاکے شہریوں نے واپس یمن جانے کاارادہ ظاہر کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button