
نئی دہلی، 18جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)ملک میں کرونا بحران کے دوران بھکمری مزید بڑھی ہے ،جبکہ ہندوستان کے امیروں کی سوئس (سوئٹزرلینڈ کے) بینکوں میں جمع رقومات میں اضافہ ہو گیا۔ میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کورونا والے سال 2020 میں سوئٹزرلینڈ کے مختلف بینکوں میں ہندوستانی شہریوں اور فرموں کی جانب سے جمع رقومات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔کورونا وبا کی شروعات والے سال 2020 میں سوئٹزر لینڈ کے مختلف بینکوں میں ہندوستانی شہریوں اور فرموں کی رقم بڑھ کر 2.55 ارب سوئس فرینک (تقریباً 20700 کروڑ روپے) پہنچ گئی ہے،
جو گزشتہ 13 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔سال 2019 میں سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع رقم 6625 کروڑ روپے تھی، یعنی ایک سال میں ہی اس میں تین گنا سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا ہے!پی ٹی آئی کے مطابق ان اعدادوشمار میں ان ہندوستانی یا غیر مقیم ہندوستانیوں کی جمع کی گئی رقم شامل نہیں ہے جو کسی تیسرے ملک کی تنظیم یا کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ یہ کالا دھن ہو، کیونکہ کالے دھن کی اطلاع سوئٹزر لینڈ کی حکومت علیحدہ سے فراہم کرتی ہے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل ہندوستانیوں کی سال 2006 میں سب سے زیادہ 6.5 ارب فرینک کی رقم سوئس بینکوں میں جمع ہوئی تھی ،لیکن اس کے بعد سے اس میں ہر سال گراوٹ درج کی گئی ہے۔سوئس بینکوں میں ہندوستانیوں کی رقومات میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ہندوستان میں کرونا کے باعث معاشی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے ۔ طرہ یہ ہے کہ عالمی غریبی میں ہندوستان کی حصہ داری 57.3 فیصد ہے۔



