نئی دہلی ،19؍ جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)دہلی سے متصل غازی آباد میں مسلم بزرگ عبد الصمد کی پٹائی اور داڑھی کاٹنے کے معاملے کے ملزم میں ایس پی رہنما امید پہلوان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس کی گرفتاری کے لئے غازی آباد پولیس چھاپے مار رہی تھی۔ غازی آباد پولیس کو یہ خبر موصول ہوئی تھی کہ امید آج ایک ڈرامائی انداز میں خود سپردگی کر سکتا ہے۔ایس ایس پی نے اس کی گرفتاری کے لئے پولیس افسران کو خصوصی طور پر الرٹ کردیا تھا۔
سول ڈریس میں پولیس فورس کو عدالت کے احاطے میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ سرنڈر کرنے سے پہلے امید کو گرفتار کیا جاسکے۔ امید پہلوان ایس پی کے مقامی رہنما ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے وہ فرار تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق اس پوری سازش رچنے کے بعد امید پہلوان نے فیس بک لائیو کے ذریعے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد برپاکرنے کی سازش کی تھی۔
اس معاملے میں پولیس نے امید پہلوان کے خلاف لونی بارڈر تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق امید پہلوان نے 7 جون کو عبدالصمد کو اپنے ساتھ بیٹھاکرفیس بک لائیوکیا تھا اور لائیو کے دوران پورے واقعے کو ایک الگ رخ دیا ۔ عبد الصمد کی پٹائی اور داڑھی کاٹنے سے متعلق واقعہ پانچ جون کا ہے جب کہ ایف آئی آر 7 جون کو درج کی گئی تھی۔
اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد غازی آباد پولیس کی نیند اڑگئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس نے ٹویٹر ، کئی صحافیوں اور کانگریس قائدین سمیت متعدد ملزمان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے۔ سب پرفرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کا الزام ہے۔



