بین ریاستی خبریں

وزیراعلیٰ آسام کا پھر متنازعہ بیان: دو سے زیادہ بچے ہونے پر والدین کو سرکاری اسکیموں کا نہیں مل سکے کوئی فائدہ

گوہاٹی ، 19جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)آسام میں دو سے زیادہ بچوں کے والدین کو سرکاری اسکیموں کی سہولیات سے محروم کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ آسام ہمنت بسوا سرما نے ہفتے کے روز کہا کہ آسام حکومت ریاست کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لئے مرحلہ وار طریقہ سے ’’دو بچوں کی پالیسی ‘‘نافذ کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی اسکیموں میں یہ طریقۂ کار ممکن نہیں ،تاہم اسے ریاستی حکومت کی اسکیموں میں لاگو کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سرما نے ہفتہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آسام میں تمام اسکیموں پر مجوزہ ’آبادی کنٹرول پالیسی‘ کو فوری طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا ،کیونکہ متعدد اسکیمیں مرکزی حکومت کے تحت چلتی ہیں۔‘‘البتہ کچھ اسکیمیں ہیں، جن میں ہم ’’دوبچوں کی پالیسی ‘‘کو نافذ نہیں کرسکتے ہیں ، جیسے اسکولوں اور کالجوں میں مفت تعلیم یا پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت رہائش۔ لیکن کچھ اسکیموں میں جیسے اگرریاستی حکومت ہاؤسنگ اسکیم شروع کرتی ہے ، تو پھر دو بچوں کی پالیسی نافذ کی جاسکتی ہے۔

آہستہ آہستہ اس پالیسی کو ریاستی حکومت کی ہر اسکیم میں نافذ کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ان کے خاندان کے افراد کی اکثریت پر اپوزیشن کے تنقید کو نشانہ بنایاواضح ہو کہ سرما کے پانچ بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بارے میں بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ ہمارے والدین یا دوسرے لوگوں نے 1970 کی دہائی میں کیا کیا، حزب اختلاف ایسی عجیب و غریب باتیں کہہ رہی ہے اور ہمیں 70 کی دہائی میں واپس لے جارہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے 10 جون کو تین اضلاع میں حالیہ انخلاء کے بارے میں بات کی ،اور مسلمانوں کے تئیں غربت کو کم کرنے کے لئے آبادی پر قابو پانے کے لئے ’’شالین خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی‘‘ اپنانے کا ’مشورہ ‘ دیا تھا ۔ وزیراعلیٰ نے مبینہ تارکین وطن مسلم برادری کو بڑے خاندانوں کے ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا ، جس پر اے آئی یو ڈی ایف سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

سرما نے یہ بھی کہا کہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل قاسمیؔ کی طرف سے خواتین کی تعلیم کو دی جانے والی اہمیت کی ستائش کی ہے۔انہوں نے کہاکہ مولانا بدرالدین اجمل نے کل مجھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے ہماری طرف سے خواتین کیلئے تعلیم کو دی جانے والی اہمیت کو سراہا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button