ایودھیا زمین گھوٹالے پر سنجے سنگھ کاچیلنج 7 دن ہوگئے ، نہ جانچ شروع ہوئی، نہ ہی مجھ پر ہتک عزت کامقدمہ ہوا
نئی دہلی:(اردودنیا/ایجنسیاں)عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے اب ایودھیا میں ایک اور زمین کی خریداری میں چندہ چوری کرنے کا الزام لگایا ہے۔ الزام ہے کہ 20 لاکھ مالیت کی اراضی رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو اڑھائی کروڑ میں فروخت کی گئی تھی۔ سنجے سنگھ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس انکشاف کو سات دن ہوئے ہیں لیکن اب تک نہ تو بدعنوانی کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا ہے اور نہ ہی مجھ پر ہتک عزت کا مقدمہ درج ہواہے۔
سنجے سنگھ نے سوال اٹھایا کہ 7 دن سے ان لوگوں کے بینک کھاتوں کوبندکیوں نہیں کیا گیا، ابھی تک تحقیقات کیوں نہیں شروع ہوئی؟۔ رام للا کے سربراہ پجاری کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے، ہنومان گڑھی کے چیف پجاری کہہ رہے ہیں کہ تحقیقات ہونی چاہئے، ہر کوئی تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن بی جے پی اس پر سیاست کا الزام لگا رہی ہے۔ اس معاملے کو تیز رفتار سے سنا جانا چاہئے اور 6 ماہ کے اندر دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہونا چاہئے۔
سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ بی جے پی عوام کے ذریعہ فنڈز کی چوری اور ٹرسٹ کی بدعنوانی کے سبب ایودھیا میں ڈیڑھ سال سے بھگوان شری رام کا مندر تعمیر نہیں کیا جارہا ہے۔ بھگوان شری رام کے مندر کی تعمیر کے لئے رام کے کروڑوں بھکتوں نے عطیہ کیا۔ لوگوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر عطیہ کیا۔ بہنوں نے اپنے زیورات بیچ کر عطیہ کیا۔ اب اگر مندر نہیں بن رہا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ بی جے پی لیڈران نے چندہ کی چوری ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پہلے 20 فروری کوبی جے پی کے میئر کے بھانجے نے 20 لاکھ میں یہ زمین خریدی۔ اس زمین کی مارکیٹ قیمت 35 لاکھ 60 ہزار ہے۔ میئر کا بھانجے کو 20 لاکھ میں مل جاتے ہیں۔
اس کے بعد 11 مئی کو اسی زمین کو اڑھائی کروڑ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ مطلب ٹرسٹ کے چندے بی جے پی لیڈران کمائی کر رہے ہیں اور اپنی جائداد بنا رہے ہیں۔ یہ بھگوان شری رام کی مہربانی ہے کہ یہ چندہ چور بے نقاب ہو رہے ہیں۔



