نئی دہلی 23جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق قتل کے ایک ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ملزم کو علاقے میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے ارشاد کی ضمانت کی اجازت دی جس پر الزام ہے کہ انہوں نے گذشتہ سال کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران 24 سالہ سلمان کو قتل کیا تھا۔
یہاں شیو وہار میں فسادات کے دوران 24 فروری کو سلمان کے سر پر گولی لگی تھی۔پولیس نے بتایا کہ ارشاد اس جگہ پر موجود تھا اور فسادات کرنے والے ہجوم کی رہنمائی کررہا تھا۔ ملزم نے اس الزام کی تردیدکی ہے۔ارشاد کو ضمانت دیتے ہوئے جج نے مشاہدہ کیا ہے کہ استغاثہ ابتدائی پہلو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اس کا کردار شریک ملزم محمد فرقان کی طرح نہیں تھا جس کو 15 جون 2021 کو ضمانت ملی تھی۔
حکم نامے میں جج نے کہا ہے کہ میں اس نظریہ کا خیال رکھتا ہوں کہ درخواست گزار مساوات کی بنیاد پر اس کیس میں ضمانت کا حقدار ہے۔جج نے ملزم کو دس ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور اسی رقم کی ایک ضمانت پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ارشاد کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے یا کسی گواہ پر اثر انداز نہ ہو ، علاقے میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھے اور اس کے روبرو کارروائی میں شریک ہونے کے لیے حاضر ہو۔اس سے قبل ارشاد کی دو ضمانتوں کی درخواستیں 19 نومبر 2020 اور 8 اپریل 2021 کو مسترد کردی گئی ہیں۔ ارشاد کو قتل کے علاوہ سازش اور فساد کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ وہ گذشتہ سال 2 اپریل سے عدالتی تحویل میں تھا۔



