قومی خبریں

ٹویٹر انڈیا کے سربراہ نے ہائی کورٹ سے راحت کی اپیل کی

بنگلورو24جون:(اردودنیا/ایجنسیاں)غازی آباد میں ایک #مسلمان بزرگ پر حملے سے متعلق ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیے گئے #ٹویٹر انڈیا کے چیف منیش مہیشوری نے جمعرات کو کرناٹک ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ دو دن میں میں ملانوٹس گواہ سے ملزم تک میں بدل گیا ہے۔ مہیشوری کی جانب سے ہائی #کورٹ میں کہا گیا تھا ہے کہ میں (ٹویٹر) صرف ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہوں۔ میرے پلیٹ فارم پر #ویڈیو اپ لوڈہوگئی۔ میرے خلاف یوپی پولیس نے از خود نوٹس لیا۔

پہلے مجھ سے 160 CRPC (بطور گواہ) حاضر ہونے کو کہا گیا ، پھر دو دن بعد مجھے ملزم بناکر41 اے (ملزم) کے تحت نوٹس بھیجا گیا۔ مہیشوری نے کہا ہے کہ میں بنگلورو میں رہتا ہوں ، میرے لیے غازی آبادجاناممکن نہیں ہے۔ میں نے #یوپی پولیس کو بتایا کہ میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے حاضر ہوسکتا ہوں لیکن یوپی پولیس کا کہنا ہے کہ میں ذاتی طور پر حاضر ہوں۔

میں کمپنی کا ڈائریکٹر نہیں ہوں اور نہ ہی میں روزمرہ فیصلے کرتا ہوں۔ میں کمپنی کا سیلز اینڈ مارکیٹنگ ہیڈ ہوں۔ اگر عدالت نے پوچھا تو میں ذاتی طور پر حاضر ہوں گا لیکن مجھے گرفتارنہیں کیا جانا چاہیے۔ مجھے ڈر ہے کہ یوپی پولیس مجھے گرفتار کر لے گی ۔اس پرعدالت نے فی الحال گرفتاری پرروک لگائی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button