
تبدیلی ٔ مذہب کا افسانہ : اے ٹی ایس تین مسلم رہنماؤں کے آٹھ ماہ کا ڈیٹاکھنگال رہی ہے ، سوشل میڈیا پوسٹ پر نگرانی
کانپور، 27جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) نام نہاد تبدیلی ٔ #مذہب کی آڑ میں کسے جارہے سیاسی مفاد کیلئے شکنجہ کے تحت تین لوگو ں کا کردار ’مشکوک‘ ہوگیا ہے ، خیال رہے ان تینوں پر سی اے اے اور این آرسی کیخلاف احتجاج میں مبینہ طور پر #فساد بھڑکانے کا بھی الزام لگایا گیا تھا، تاہم یہ ضمانت پر رہا ہیں،البتہ ان تین لوگوں کی نام کی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔
اطلاع کے مطابق ان میں سے ایک شخص داعی ٔ اسلام ڈاکٹر محمد #عمر #گوتم سے رابطہ تھا،اس ایک شخص پر الزام ہے کہ وہ کئی بار اپنے ساتھ حلیم مسلم #کالج بھی لایا تھا۔اب یوپی اے ٹی ایس ان تینوں مذہبی #رہنماؤں میں سے آٹھ ماہ کی ڈیٹیل نکالنے میں مصروف ہے۔ ایجنسی ان کے ڈیٹیل کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ انہیں کہاں سے اس طرح کا تبدیلی ٔ مذہب کا آئیڈیا اور مبینہ طو رپر مالی اعانت مل رہی تھی ۔
پولیس کے مطابق ان تینوں پر اینٹی سی اے اے این آر سی کیلئے بھی فنڈ جمع کرنے کا الزام تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سی اے اے قانون کے متعلق مفروضہ طریقے سے ’غلط معلومات‘ دیں ، جس سے کانپور میں نقض امن کی صورتحال پیدا ہوئی ۔
ان تینوں مذہبی رہنماؤں کا آٹھ ماہ کا ڈیٹیل تلاش کیا جارہا ہے۔ اس میں ان کی کال ڈیٹیل رپورٹ کے علاوہ ، سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ایجنسی کے ذریعہ ان کے بینک کھاتوں کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔



