حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #کورونا #وائرس کا #انفیکشن اب بھی پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے، دریں اثنا کرونا مستقل طور پر اپنی شکل اور ہیئت بدل رہا ہے ، اسی درمیان اور ایک نئی شکل دریافت ہونے سے خطرات مزید لاحق ہوگئے۔ ان سب کے درمیان #کرناٹک میں ایک پریشان کن خبر سامنے آئی ہے۔
ریاست کے ضلع دیونگیرے میں ایک 13 سالہ #بچے کو پہلی بار کورونا ہوا ، جس کے بعد اس کا دماغ غیر فعال ہوگیا۔ اس کا #علاج کئی دن #اسپتال میں ہوا تھا، وہ وینٹی لیٹر پر بھی رہاتھا، اس کے بعد اس کی صحت میں معمولی بہتری آئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ کرناٹک کے ضلع دیونگیرے میں سامنے آیا ہے۔
کرونا کے بعد #دماغ کا ناکارہ ہونے کا ایسا معاملہ ریاست میں پہلا اور ملک میں دوسرا بتایا جارہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک 13 سالہ بچے میں (Acute Necrotizing Encephalopathy of Childhood)ایکیوٹ نیکروکائزنگ انسیفولیتھی آف چائلڈ ہوڈ (ANEC) کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وہ 8 دن اسپتال میں داخل ہے۔ایس ایس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر این کے کالاپ ناور کا کہنا ہے کہ جب بچے کے دماغ کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ غیر فعال ہے، اسے تین دن کے لئے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔
اس کے بعد اس کی صحت میں کچھ بہتری آئی تو پھر وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا۔وہ کہتے ہیں کہ بچے کو ابھی ایک ہفتہ مزید علاج کی ضرورت ہے۔ جب وہ صحت یاب ہوجائے گا تو ہم جانچ کریں گے کہ اس کا دماغ کتنا متاثر ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس بیماری کا علاج مہنگا ہے۔ 30 کلو وزنی ہر بچے کے لئے اس کے انجکشن کی قیمت 75000 سے 1 لاکھ روپے تک ہے ۔



