ایس پی کی غلطی دہرارہی ہے بی جے پی
لکھنؤ،28/جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #بہوجن سماج #پارٹی کی سربراہ #مایاوتی نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی #ضلعی #پنچایت صدر کا انتخاب نہیں لڑے گی۔ ریاست میں ہفتہ کو ضلع پنچایت صدور کا انتخاب ہونا ہے۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ پنچایت #انتخابات کے بجائے 2022 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاری کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم 2022 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو زیادہ تر ضلعی پنچایت صدور خود بخود ہماری پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔مایاوتی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں میڈیا کی مدد سے یہ افواہیں پھیلارہی ہیں کہ 2022 کے اسمبلی انتخابات کے لئے بی ایس پی سرگرم نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں 2021 سے مسلسل لکھنؤ میں کیمپ لگا رہی ہوں۔
میڈیا اسے نظرانداز نہیں کرسکتا۔ ہم 2022 کے انتخابات کی مستقل تیاری کر رہے ہیں۔مایاوتی نے ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت پر بھی حملہ کیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت وہی غلطی کررہی ہے جو سماج وادی پارٹی کی حکومت نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے کام کاج کا طریقہ ایس پی کی طرح ہی ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اسی غلطی کی وجہ سے ہی انہوں نے 1995 میں ایس پی کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔مایاوتی نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ’سام ، دام ، ڈنڈ ، بھید‘ سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کورونا بحران کے وقت وہ کورونا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لکھنؤ سے ہی آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مایاوتی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی اترپردیش اور اتراکھنڈ میں کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی۔



