
اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے والی ہندو خاتون نے عدالت سے مانگاتحفظ غیرمصدقہ خبریں نشرکرنے پرمیڈیاکوبنایانشانہ
نئی دہلی ، 29جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)#اسلام قبول کرنے والی ایک #ہندو #خاتون نے #دہلی ہائی #کورٹ سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کو تحفظ دینے کی درخواست کی ہے۔ اس خاتون کے مطابق جب سے اس نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا، تب سے اسے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور #اتر پردیش پولیس، میڈیا اور خود ساختہ گروہ اس کے پیچھے پڑے ہیں۔اترپردیش کے ضلع شاہجہان پور کی رہائشی اور دہلی میں کام کرنے والی اس خاتون نے اپنے اور اپنے کنبے کے لئے پرائیویسی کے ساتھ ساتھ سیکوریٹی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اپنی درخواست میں خاتون نے کہا ہے کہ تبدیلی #مذہب کی وجہ سے اس کو اور اس کے کنبے کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور میڈیا میں اس کے بارے میں بدنیتی پر مبنی مواد شائع کیا جارہا ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار (خواتین) بالغ ہیں اور آئین انہیں اپنے مذہب کا انتخاب کرنے کا حق فراہم کرتا ہے اور انہیں اس مذہب کے لئے ہراساں یا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا ۔اس خاتون کی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ کملیش کمار مشرا نے کہا کہ شاید اس درخواست پر بدھ کے روزسماعت ہوسکتی ہے۔
درخواست کے مطابق رینو گنگوار عرف عائشہ علوی نے 27 مئی کو دہلی میں اسلام قبول کیا تھا اور 23 جون سے جب وہ شاہجہان پور میں تھیں تو میڈیا اہلکاروں کے فون آنے لگے جس میں ان سے ملنے کی #درخواست کی گئی لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ خاتون کا کہنا تھا کہ اس کی اجازت کے بغیر میڈیا والے ان کے گھر آئے اور ان کی تصاویر، ویڈیوز بھی لینا شروع کردی اور اسے دھمکی آمیز کالیں بھی آنا شروع ہوگئیں کہ میڈیا میں اس کے تبدیلی مذہب کی خبر آنے کے بعد اسے گرفتار کرلیا جائے گا اور اس سے رقم کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
خاتون کے مطابق اس کے بعد ان میں سے ایک نے اس سے زبردستی 20000 روپے لئے جبکہ دوسروں نے بھی اس سے اور اس کے اہل خانہ سے رقم لینے کی کوشش کی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ میڈیا میں اس کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں غیر مصدقہ اور خیالی معلومات دی جارہی ہیں۔خاتون نے درخواست میں کہا ہے کہ 24 جون کو اس نے دہلی پولیس کمشنر سے بھی شکایت کی تھی اور تحفظ مانگا تھا۔
کئی فون کالز آئے ، ایک نے اس سے زبردستی 20000 روپے بھی لئے، جبکہ دوسروں نے بھی اس سے اور اس کے اہل خانہ سے رقم لینے کی کوشش کی ۔درخواست میں عائشہ علوی نے کہاہے کہ میڈیا میں اس کے تبدیلی مذہب کے بارے میں بے بنیاد اور غلط اطلاعات دی جا رہی ہیں۔ خاتون نے درخواست میں کہا ہے کہ 24 جون کو اس نے دہلی پولیس کمشنر سے بھی شکایت کی تھی اور تحفظ طلب کیا تھا۔



