یو اے پی اے کے تحت غداری کے معاملے میں آسام کے ایم ایل اے اکھل گوگوئی این آئی اے عدالت سے بری
گوہاٹی/یکم جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #آسام کے سماجی کارکن اور ایم ایل اے اکھل گوگوئی (Akhil Gogoi) کو این آئی اے (The National Investigation Agency) کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو یو اے پی اے (UAPA) کے دوسرے غداری کے معاملے میں #بری کردیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گوگوئی نے شہریت ترمیمی #قانون (سی اے اے) کی مخالفت کی تھی۔ پھر اس پر ملک بغاوت اور تشدد کو بھڑکانے کا #الزام لگایا گیاتھا۔ اس سال ریاست میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں رائے جور دل کے سربراہ اور آر ٹی آئی کارکن اکھل گوگوئی نے شیوساگر سیٹ پر کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے #بی جے پی کے امیدوار سربھی راج کنور اور #کانگریس کے شبھ مترا گوگوئی کو شکست دی۔گوگوئی کو شہریت ترمیمی قانون (CAA) کی مخالفت میں پرتشدد مظاہرکے الزام میں دسمبر 2019 کو #گرفتار کیا گیا تھا۔وہ یو اے پی اے کے تحت گرفتار ہوئے تھے ۔ اکھل گوگوئی کا نام رواں سال مارچ میں بھی اس وقت منظرعام پر آیا تھا ، جب جیل سے لکھے ایک خط میں الزام لگایا گیا تھا کہ حراست میں انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔
این آئی اے حکام نے انہیں آر ایس ایس یا بی جے پی میں شامل ہونے پر فوری ضمانت کی پیش کش کی تھی۔واضح رہے کہ جیل میں بند اکھل گوگوئی نے آسام کی سیواساگر سیٹ سے الیکشن جیتا تھا۔ نیز اسی سال مارچ میں اکھل گوگوئی نے جیل سے خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ دوران حراست انہیں ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا گیا ۔ این آئی اے حکام نے انہیں آر ایس ایس یا بی جے پی میں شامل ہونے پر فوری ضمانت کی پیش کش کی تھی۔



