نئی دہلی، یکم جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #عیدالاضحیٰ یا بقرعید سے پہلے جانوروں کے حقوق کی تنظیم پیٹا(PETA) نے وزیر اعظم #نریندر #مودی ( Prime Minister Narendra Modi) سے #قانون کی اس شق کو کالعدم قرار دینے کی اپیل کی، جس کے تحت مذہبی مقاصد سے جانوروں کی قربانی دینے کی اجازت دی گئی ہے۔
پیپل فاردی ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیملس (People for the Ethical Treatment of Animals)انڈیانے جانور ظلم مخالف قانون (پی ایس اے) کے سیکشن 28 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایکٹ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ کسی بھی برادری کے #مذہب کیلئے لامحالہ کسی بھی جانور کو مارنا #جرم ہوگا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں پیٹا انڈیا کے سی ای او منی لال ویلیئٹ نے کہاکہ میں پیٹا انڈیا کے 20 لاکھ سے زیادہ ممبران اور حامیوں کی طرف سے آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ جانوروں کوظلم سے روکنے کیلئے جانور بچاؤ ایکٹ 1960 کی دفعہ 28کوہٹادیں، جو مذہب کی خاطر کسی بھی جانور کو کسی بھی طرح سے ہلاک کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ آرٹیکل 28 عدم تشدد، ‘ہمدردی کے جذبات سے الگ ہے اور آئین ہند کے آرٹیکل 51 اے (جی) کے تحت تمام زندہ لوگوں کے لئے ہمدردی رکھنا ضروری ہے۔
پیٹا کے عہدیدار نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا مؤقف ہے کہ یہ آرٹیکل قوم کے بھر پور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ یہ دفعہ (دفعہ 28) پی سی اے قانون کے مقصد کے منافی ہے، کیونکہ یہ جانوروں کو غیرضروری تکلیف پہنچاتی ہے اور اب جدید معاشرے میں متروک ہے۔ انسانی قربانی کو قتل سمجھا جاتا ہے۔



