بین ریاستی خبریں

 بی جے پی – شیوسینا طویل مدت سے  حکومت سازی کی بات کر رہی ہیں ، فڑنویس پراٹکا ہے مسئلہ 

نئی دہلی، 5جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مرکزی سرکار یعنی پی ایم نریندر مودی کے کابینہ میں توسیع مہاراشٹرا کی سیاست میں بڑا فرق لاسکتی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ پردے کے پیچھے سے بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اس کی وجہ سے وزیر اعظم #مودی کی کابینہ میں توسیع تعطل کا شکار ہے۔ کابینہ میں یہ توسیع کسی بھی دن ہوسکتی ہے۔
اگرچہ دونوں پارٹیوں کے مابین دیویندر فڑنویس (Devendra Fadnavis) کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دیویندر فڑنویس کو وزیر اعظم مودی کی کابینہ میں جگہ دے کر دہلی بلایا جاسکتا ہے۔ فڑنویس کو ادھو ٹھاکرے کا اصلی حریف سمجھا جاتا ہے اور بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد ادھو ٹھاکرے بی جے پی کے دو نائب وزرائے اعلی کے ساتھ وزیر اعلی کی کرسی پر ہی رہیں گے۔
نجی ٹی وی این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بی جے پی ذرائع نے اسے مسترد کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ مرکزی کابینہ میں توسیع مہاراشٹرا کی سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ہے ۔ بی جے پی کے ایک ذرائع نے کہا کہ شیوسینا کے ساتھ کسی بھی فارمولے پر اسی وقت اتفاق کیا جائے گا، جب دیویندر فڑنویس کو #وزیر اعلیٰ کا عہدہ مل جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر پارٹی قیادت کسی بھی طرح کے سمجھوتہ کے لئے تیار نہیں ہوگی ، کیوں کہ 2019 کے مہاراشٹرا انتخابات میں شیوسینا کے مقابلے دوگنی نشستیں  نشستیں ملی تھیں ۔
دوسری طرف دیویندر فڑنویس نے بھی ایسی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مہاراشٹرا میں ہی رہیں گے۔ مرکزی کابینہ میں وزارتی عہدے کے بارے میں صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں دیویندر فڑنویس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ بی جے پی میں صرف وزیر اعظم ہی آخری فیصلہ لیتے ہیں، جو کچھ بھی وہ فیصلہ کرتے ہیں ، سبھی قبول کرتے ہیں۔
پارٹی نے مجھے مہاراشٹر میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ دیا ہے ، میں اسے مضبوطی سے ادا کر رہا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے دہلی جانے کی ضرورت ہے۔ پارٹی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیوسینا کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور اگر دونوں پارٹی ایک ساتھ ہوجائیں ،تو شیوسینا کو بعد میں مرکزی کابینہ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
اسی تناظر میں #شیوسینا کے ممبر #پارلیمنٹ  #سنجے راوت نے پیر کے روز کہاکہ ہم #ہندوستان #پاکستان نہیں ہیں،بلکہ ہمارا رشتہ #عامر خان اور #کرن راؤ جیسا ہے، ہما رے یعنی شیوسینا اور بی جے پی کے راستے مختلف ہیں ، لیکن ہماری دوستی برقرار رہے گی۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button