
تدفین شام پانچ بجے جوہو قبرستان میں کی جائے گی۔
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔گزشتہ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ دلیپ کمار کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔انہیں باندرہ پالی ہل میں ان کے بنگلہ پر لے جایاجائے گا اور تدفین شام پانچ بجے جوہو قبرستان میں کی جائے گی۔
تقریبانصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے،دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا1944میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔اور انہوں نے محض 64فلموں میں اداکاری کی اور سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کیے ۔فلم کے ساتھ ساتھ سیاسی،سماجی اور تعلیمی میدانوں میں رینجرز قومی اور ملی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔
دلیپ کمار طویل عرصے سے علیل تھے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے۔سپر اسٹار اداکار دلیپ کمار کو 30 جون کو ممبئی کے ہندوجا اسپتال میں انتہائی نگہداشت والے یونٹ (آئی سی یو) میں داخل کرایا گیا تھا۔
ان کی شریک حیات سائرہ بانو نے منگل کے روز بتایاتھا کہ ان کی حالت اب بہتر ہے۔انہوں نے کہاکہ’’ دلیپ صاحب کی طبیعت اب مستحکم ہے اور وہ ابھی بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ہم ان کو گھر لے جانا چاہتے ہیں ، لیکن ہم ڈاکٹروں کی منظوری کا انتظار کررہے ہیں۔ڈاکٹر جیسے ہی اجازت دیں گے ہم ان کو گھر لے جائیں گے۔سائرہ بانو نے دلیپ صاحب کے مداحوں سے ان کی صحتیابی کے لئے دعا کی درخواست کی‘‘۔اسپتال کے ذرائع نے آج دلیپ کمار کی موت کی تصدیق کردی ہے۔
ڈاکٹرجلیل پالکر کے مطابق دلیپ کمار نے اپنی آخری سانسیں صبح 7 بج کر 30 منٹ پر لیں۔دلیپ کمار کے انتقال کی افسوسناک خبر پر اُن کے اہلخانہ، بالی ووڈ فنکاروں اور دُنیا بھر میں موجود اُن کے مداحوں کی جانب سے شدید دُکھ کا اظہار کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ لیجنڈری اداکار دلیپ کمار گزشتہ کئی سالوں سے بیمار تھے جس کی وجہ سے اُنہیں اکثر معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جاتا تھا۔ دلیپ کمار سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے ممبئی کے اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
خیال رہے کہ دلیپ کمار 1922ء میں پشاور کے محلےخداداد میں پیدا ہوئے تھے، دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1944 میں فلم ’جوار بھاٹا‘سے کیا مگر فلم انڈسٹری میں اپنی اصل پہچان 1960میں تاریخی فلم ’مغلِ اعظم‘ میں شہزادہ سلیم کا کردار ادا کرکے بنائی۔
دلیپ کمار نے اپنے فلمی کیرئیر کے دوران مغل اعظم، ملن، جگنو، شہید، ندیا کے پار، انداز جوگن، بابل، آرزو، ترانہ، ہلچل، دیدار، سنگدل، داغ، آن، شکست، فٹ پاتھ، امر،اڑن کٹھولا، انسانیت، دیوداس، نیا دور، پیغام، کوہ نور، گنگا جمنا، شکتی، دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم جیسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا،گوپی اور رام اور شیام میں ایک مزاحیہ اداکارکی شناخت بنائی اور یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔لیڈر میں وہ ایک انوکھے رول میں نظر آئے۔
دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ ہندوستانی فلم صنعت انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے، جن کے اسٹائل کی نقل نوجوان کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر فدا تھیں۔
ہیروئن مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علاحدہ ہو گئے۔اس میں مدھوبالا کے والد کارول ٹھیک نہیں رہا۔
بتایا جاتا ہے کہ ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔اور وہ رول مصر کے ادارے عمر شریف نے کیاتھا۔
دلیپ۔کمار نے 1998 میں فلم ‘ قلعہ ‘ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی ۔انھیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا ۔ وہاں انھیں ملک کی فلمی صنعت کے سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا گیااور پڑوسی ملک پاکستان کی حکومت نے 1998ء میں ان کو سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا تھا جوکہ سابق وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کو بھی مل چکا ہے۔ ملک۔کادوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز، 2015 میں پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا۔



