قومی خبریں
اترپردیش انتخابات: یوپی کے دورے پراسدالدین اویسی کہا اس بار’وائی ایم‘ نہیں، ’اے ٹو زیڈ‘فامولہ چلے گا
لکھنو، 8 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسدالدین اویسی کیلئے اترپردیش بنگال بنے گا یا بہار ؟ اس بار وہ بنگال کی غلطی دہرانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ لکھنؤ پہنچتے ہی اویسی نے اپنے سیاسی فارمولے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ’MY‘ فامولہ یوپی میں کام نہیں کرے گا۔ یہ وہی فامولہ ہے جس کی وجہ سے ملائم سنگھ اور پھر ان کے بیٹے اکھلیش یادو ریاست کے وزیر اعلی بنے۔ایم وائی کا مطلب مسلم – یادو ہے۔
دونوں کو جوڑنے سے تقریبا 30 فیصد ووٹ بینک بنتا ہے۔ یہ سماج وادی پارٹی کی طاقت رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کو مسلمانوں کو پہلی پسند سمجھا جاتا ہے۔ آل انڈیا #مجلس #اتحاد #المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی خود ہی سب سے زیادہ پسندیدہ بننے کے لئے اس انتخاب کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کی سائیکل کو پنکچر کئے بغیر اویسی کی پتنگ اڑ نہیں سکتی۔ اسد الدین اویسی اس بار یوپی کے مسلمانوں کی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں۔
وہ یہ کہاوت بھی تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ #مسلمان ان لوگوں کو ووٹ دیں جو بی جے پی کو شکست دے سکے۔ #اویسی کا پیغام ہے کہ مسلمان اس انتخاب میں اپنوں کو ووٹ دیں۔اپنوں کا مطلب ایم آئی ایم ہے۔ پچھلے اسمبلی انتخابات میں ان کا فارمولا کارآمد نہیں ہوا، وہ محض #کاغذی شیر ثابت ہوئے۔ پارٹی نے 38 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے تھے لیکن 37 پر #ضمانت ضبط ہوگئی، کل دو لاکھ ووٹ ملے لیکن اس کے بعد سے گنگا میں کافی پانی بہہ چکا ہے۔
اس بار اویسی کم سے کم ایک سو نشستوں پر #انتخاب لڑنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔مشرقی یوپی کے بہرائچ میں اسد الدین اویسی نے آج ایم آئی ایم کے پارٹی دفتر کا افتتاح کیا۔ وہ وہاں غازی سالار مسعود کی درگاہ بھی گئے۔ یہاں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بار ایم وائی نہیں بلکہ اے ٹو زیڈ فامولہ کام کرے گی۔
اس بار اویسی اکھلیش کا کھیل خراب کرکے اپنا کھیل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان پر بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام لگتارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں 20 نشستوں پر لڑنے نے 5 نشستیں جیتیں جبکہ مہاگٹھ بندھن نے باقی 15 میں 9 سیٹیں حاصل کی۔ #سماج وادی پارٹی، #بی ایس پی سے کانگریس تک یوپی میں 20 فیصد مسلم #ووٹ کے دعویدار ہیں۔



